منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانی شہری کی جدہ سے ریاض تک پیدل امن واک تیرہ روز میں مکمل

datetime 25  جولائی  2015 |

جدہ(نیوزڈیسک) ایک پاکستانی شہری کھرل زادہ کسرت رائے نے حال ہی میں جدہ سے ریاض تک اپنی امن واک 13 دنوں میں مکمل کی ہے۔یہ ان کا سعودی عرب میں دوسرا وزٹ تھا، جس کے دوران انہوں نے گیارہ سو کلومیٹر طویل پیدل سفر کیا، جسے انہوں نے محبتِ حرمین شریفین کا عنوان دیا تھا۔سعودی عرب کے باشندوں اور تارکین وطن کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کھرل زادہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کی محبت نے یہ واک شروع کرنے کے لیے ان کی ہمت افزائی کی۔کھرل زادہ نے بتایا کہ حرمین شریفین کی اس واک کا بنیادی مقصد پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا، جس کا مطلب ہے کہ ہم سعودی عرب اور اس کے عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جد سے ریاض تک ان کی اس امن واک کا اہم مقصد یہ تھا کہ امن اور محبت کے پیغام کو پھیلایا جائے اور دنیا کو جتا دیا جائے کہ پاکستانی مکہ اور مدینہ سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تمام پاکستانیوں کا وطن ہے، جو ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کا مشن ہے کہ پاکستان کو امن کی علامت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔کھرل زادہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ کامیاب واک دراصل دنیا کے سامنے دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کا مظاہرہ ہے۔انہوں نے سعودی حکومت اور پاکستانی مشن اور دونوں ملکوں کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے مقصد کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں برہان اللہ اور محمد احمد مبشر کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری واک کے راستے کا بندوبست کیا۔یاد رہے کہ کھرل زادہ اس سے قبل 2013 میں کراچی سے مکہ تک امن واک بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے سات جون 2013 کو کراچی سے اپنی امن واک کا آغاز کیا تھا اور 2 ستمبر کو اردن کی سرحد کے راستے سعودی عرب پہنچے تھے۔اس وقت وہ پاکستان میں 1301 کلومیٹر، ایران میں 2640 کلومیٹر، عراق میں 600 کلومیٹر اور اردن میں 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سعودی عرب پہنچے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…