لندن(نیوزڈیسک )تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دنیا میں نصف سے زائدیعنی 55 فیصد کامیاب رہنماں نے سوشل سائنس اورغیر سائنسی علوم کا مطالعہ کیا تھا۔تازہ تحقیق کے مطابق جو لوگ حکومت میں تھے ان میں سوشل سائنس پڑھنے کا امکان تھا اور جو غیر منافع بخش اداروں کے لیے کام کرتے تھے ان کے پاس ہیومینیٹیز کی ڈگری تھی۔اگر آپ ملک کا رہنما بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کس قسم کی ڈگری کی ضرورت ہو گی؟، یا کیا آپ جانتے ہیں کہ یونیورسٹی کا تجربہ گریجویشن کے بعد آپ کی کامیابی پر اثر انداز ہو سکے گا۔ایسے بہت سے سوالات کے جوابات برٹش کونسل کی حالیہ تحقیق نے دئیے ہیں، جس میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اعلی تعلیم کا تجربہ کسی بھی رہنما کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔برٹش کونسل کے نتائج 30 ممالک کے تعلیمی پس منظر کے حامل 1,700 افراد پر مبنی ہے جن کا تعلق کارپوریٹ، غیر منافع بخش اداروں اور حکومتی پس منظر سے تھا ۔مطالعہ میں موجودہ 10پیشہ وارانہ لیڈرز یا قائدین کا انٹرویو بھی شامل تھا، جن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی اعلی تعلیم نے انھیں متعلقہ شعبے میں ترقی کی منزل تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ماہرین نے کہا کہ نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف تعلیم ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، جیسا کہ دنیا کے بہت سے کامیاب ترین لوگوں کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے ان میں مشہور کاروباری شخصیات فیس بک کے شریک بانی مارک زکربرگ اور رچرڈ برینسن کا نام شامل ہے۔تاہم ہمارا مطالعہ ان رہنماں اور کامیاب افراد پر ہیجنھوں نے اپنی ڈ گریاں مکمل کی ہیں اور ان کی اعلی تعلیم نے انھیں کامیاب بنانے میں مدد کی ہے۔تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماں نے سوشل سائنس اور ہیو مینٹیز کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیو مینٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔نوجوان رہنما جن کی عمریں 45 برس سے کم تھیں، ان کا پس منظر سماجی سائنس اور ہیومینٹیز سے تھا، لیکن اس کے برعکس بڑی عمر کے رہنماں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کا مطالعہ کیا تھا۔ماہرین نے کہا کہ ہمارے نتائج یہ تجویز نہیں کرتے ہیں کہ خاص تعلیمی نظم و ضبط کیرئیر کی کامیابی کی طرف قیادت کرتا ہے، بلکہ نتیجے سے پتا چلا کہ رہنما زیادہ تر تکنیکی شعبوں، مثلا صحت، ماحول، توانائی، سیکیورٹی اور دفاعی پس منظر تھا۔ماہرین نے کہا اعلی تعلیم براہ راست سیکھنے کے مقابلے میں زیادہ تجربہ فراہم کرتی ہے، جیسا کہ طالب علم جانتے ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی مطالعے سے باہر کی سرگرمیوں اور تجربات سے نئی مہارتیں سیکھتے ہیں اسی حوالے سے ان دس رہنماں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کا ان کی کامیابی میں حصہ ہے اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ کھیلوں کے ذریعے انھوں نے نظم و ضبط اور مسابقتی دوڑ کو سیکھا ہے، جبکہ یونیورسٹی میں مختلف ثقافتوں کے ساتھ مطالعہ کا تجربہ اور یونیورسٹی کے ماحول نے انھیں کاروباری یا تخلیقی بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریبا
نصف 46 فیصد رہنماں نے بین الاقوامی تعلیم یا ملازمت کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ جتنی اعلی سطح کی ان کی ڈگری تھی اتنا ہی ان میں بیرون ملک تعلیم کا امکان زیادہ تھا۔ان کامیاب افراد نے زیادہ تر بیرون ملک سے ماسٹرز کی ڈگری یا پیشہ ورانہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جبکہ سب سے مقبول مطالعہ کی منزل امریکہ اور برطانیہ ہیں
دنیا کے کامیاب ترین لوگ کیا پڑھتے ہیں ؟تحقیق میں دلچسپ انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































