اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک اہم مرض کے بارے میں خوش خبری سامنے آگئی

datetime 2  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی وی وائرس ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے جس کے باعث یہ کم مہلک ہو رہا ہے اور اس میں مرض پھیلانے کی قوت کم ہو رہی ہے۔آکسفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم کی جانب سے کی جانی والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی وی کے وائرس کی شدت میں کمی آئی ہے اور یہ وائرس انسانی قوت مدافعت کے لحاظ سے ڈھل رہا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن کو ایڈز کا مرض بننے میں دیر لگ رہی ہے اور اس تبدیلی کے باعث اس مرض ہر قابو پایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایچ آئی وی کے وائرس میں تبدیلی آتی جائے گی ویسے ویسے یہ وائرس بے ضرر ہو جائے گا۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد کو ایچ آئی وی ہے اور ان کے جسم میں ایچ آئی وی وائرس اور قوت مدفعت کے درمیان جنگ چل رہی ہوتی ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس قوت مدافعت سے بچنے کا ماہر ہے۔ لیکن چند بار یہ ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے جس کی قوت مدافعت بہت مضبوط ہوتی ہے۔آکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ گولڈر کا کہنا ہے ’جب وائرس ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے تو یا توختم ہو جاتا ہے یا پھر زندہ رہنے کے لیے اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے۔ اور اگر یہ وائرس اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے تو اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔‘جب وائرس ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے تو یا تو حتم ہو جاتا ہے یا پھر زندہ رہنے کے لیے اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے۔ اور اگر یہ وائرس اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے تو اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔پروفیسر فلپ گولڈر کا کہنا ہے ’اس تبدیلی کی قیمت ہوتی ہے اس کی کمزوری۔ اور اس کا کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ ایچ آئی وی سے ایڈز ہونے میں وقت زیادہ لگنا۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کمزور وائرس دیگر افراد میں منتقل ہوتا ہے اور مزید کمزور پڑ جاتا ہے۔آکسفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے وائرس کے کمزور پڑنے کے عمل کو بوٹسوانا میں دیکھا جہاں پر لمبے عرصے سے ایچ آئی وی وائرس پھیلا ہوا ہے اور جنوبی افریقہ کو دیکھا جہاں یہ وائرس ایک دہائی قبل ہی آیا ہے۔
پروفیسر گولڈر نے بی بی سی کو بتایا ’بہت دلچسپ ہے۔ بوٹسوانا میں اس وائرس کی قوت جنوبی افریقہ کے مقابلے میں دس فیصد کم ہے۔ ہم اس وائرس کا ارتقا دیکھ رہے ہیں اور یہ عمل کس قدر تیزی سے ہو رہا ہے حیرت انگیز ہے۔‘
’وائرس کمزور پڑ رہا ہے اور مرض پھیلانے کی قوت کم پڑتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس وائرس پر قابو پانا ممکن ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…