بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

ایک اہم مرض کے بارے میں خوش خبری سامنے آگئی

datetime 2  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی وی وائرس ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے جس کے باعث یہ کم مہلک ہو رہا ہے اور اس میں مرض پھیلانے کی قوت کم ہو رہی ہے۔آکسفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم کی جانب سے کی جانی والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی وی کے وائرس کی شدت میں کمی آئی ہے اور یہ وائرس انسانی قوت مدافعت کے لحاظ سے ڈھل رہا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن کو ایڈز کا مرض بننے میں دیر لگ رہی ہے اور اس تبدیلی کے باعث اس مرض ہر قابو پایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایچ آئی وی کے وائرس میں تبدیلی آتی جائے گی ویسے ویسے یہ وائرس بے ضرر ہو جائے گا۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد کو ایچ آئی وی ہے اور ان کے جسم میں ایچ آئی وی وائرس اور قوت مدفعت کے درمیان جنگ چل رہی ہوتی ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس قوت مدافعت سے بچنے کا ماہر ہے۔ لیکن چند بار یہ ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے جس کی قوت مدافعت بہت مضبوط ہوتی ہے۔آکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ گولڈر کا کہنا ہے ’جب وائرس ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے تو یا توختم ہو جاتا ہے یا پھر زندہ رہنے کے لیے اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے۔ اور اگر یہ وائرس اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے تو اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔‘جب وائرس ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے تو یا تو حتم ہو جاتا ہے یا پھر زندہ رہنے کے لیے اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے۔ اور اگر یہ وائرس اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے تو اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔پروفیسر فلپ گولڈر کا کہنا ہے ’اس تبدیلی کی قیمت ہوتی ہے اس کی کمزوری۔ اور اس کا کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ ایچ آئی وی سے ایڈز ہونے میں وقت زیادہ لگنا۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کمزور وائرس دیگر افراد میں منتقل ہوتا ہے اور مزید کمزور پڑ جاتا ہے۔آکسفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے وائرس کے کمزور پڑنے کے عمل کو بوٹسوانا میں دیکھا جہاں پر لمبے عرصے سے ایچ آئی وی وائرس پھیلا ہوا ہے اور جنوبی افریقہ کو دیکھا جہاں یہ وائرس ایک دہائی قبل ہی آیا ہے۔
پروفیسر گولڈر نے بی بی سی کو بتایا ’بہت دلچسپ ہے۔ بوٹسوانا میں اس وائرس کی قوت جنوبی افریقہ کے مقابلے میں دس فیصد کم ہے۔ ہم اس وائرس کا ارتقا دیکھ رہے ہیں اور یہ عمل کس قدر تیزی سے ہو رہا ہے حیرت انگیز ہے۔‘
’وائرس کمزور پڑ رہا ہے اور مرض پھیلانے کی قوت کم پڑتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس وائرس پر قابو پانا ممکن ہے۔‘

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…