جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

ہاتھ پھیلانے والا فیصلہ کر نہیں سکتا، ہمیشہ ڈکٹیشن لے گا، شہباز شریف کی حکمرانوں پر تنقید

datetime 17  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکمرانوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ہاتھ پھیلانے والا فیصلہ کر نہیں سکتاقومی اسمبلی میں خطا ب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہاتھ پھیلانے والا فیصلہ تو کر نہیں سکتا، وہ تو ہمیشہ ڈکٹیشن لے گا، اگر ڈکٹیشن ختم کرنی ہے اور اپنے آپ کو پاؤں پر

کھڑا کرنا ہے تو پھر وہ کشکول توڑنا ہوگا، جو راتوں رات نہیں ہوسکتا لیکن اس کے لیے شروعات توکریں۔انہوں نے کہاکہ ہم پر الزام تھا کہ انہوں نے برآمدات کو نہیں بڑھایا تو انہوں نے کیا کیا، 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت مکمل ہونے پر برآمدات کی جو سطح تھی، اس کے بعد آج تک روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 35 فیصد گرچکی ہے، جب روپے کی قدر گری تو درآمدات کی قیمت اسی حساب سے مہنگی ہوگئی، جس کا مطلب ہے کہ ہر چیز مہنگائی کی طرف گئی۔انہوں نے کہا کہ پھر زراعت، کارخانہ اور زراعت سمیت ہر شعبے کی مصنوعات مہنگی ہوگئی، روپے کی قدر 35 فیصد تک گرانے کے باوجود برآمدات آج تک 2018 کے مقابلے میں نہیں بڑھیں۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی کے طوفان میں برباد کردیا لیکن ان تین برسوں میں برآمدات نہیں بڑھا سکے۔صدر مسلم لیگ (ن) نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان تین برسوں میں حکومت نے 10 ہزار ارب روہے سے زیادہ مالیاتی خسارہ کیا۔انہوں نے کہاکہ جس حکومت پر یہ کیڑے نکالتے ہیں، نواز شریف کے تین ادوار کے 10 برسوں میں جو مالیاتی خسارہ ہے، اس کے مقابلے میں ان تین برسوں کا خسارہ کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزرا نے کہا کہ روپے کی قدر کم ہوگی، اس سے سٹا بازی کی گئی اور بہت زیادہ نقصان

برداشت کرنا پڑا۔شہباز شریف نے سوال کرتے ہوئے کہاکہ اس حکومت نے ان تین برسوں میں کوئی مشہور ہسپتال بنایا، کوئی یونیورسٹی بنائی، کوئی ٹیکنیکل یونیورسٹی بنائی، کوئی ایل این جی کا اضافہ ٹرمینل بنایا، کوئی اسٹوریج بنائی، اسٹوریج کی عدم دستیابی کی وجہ سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے ماسوائے تختیاں

لگانے اور فیتے کاٹنے کے کیا کیا ہے، اگر ایک دو مثالیں دو تو ہنسی بھی آئے گی اور حیرانی بھی ہوگی کیونکہ انہوں نے ان منصوبوں پر تختیاں لگائیں اور فیتے کاٹے، جن پر نواز شریف کے دور حکومت میں مکمل ہو کر چل پڑے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ ان کا دامن ہر حوالے سے عمل سے خالی ہے کیونکہ کسی کو مال بنانے کا شوق

ہو تو وہ کیسے عمل کرے گا، یہ قوم جری ہے، اگر آپ اس کا ہاتھ لے کر چلیں تو ساتھ چلنے والی قوم ہے۔انہوں نے کہا کہ لنگر خانے بنائے گئے، یہ اچھی بات ہے، حکومت کو اس پر تعاون کرنا چاہیے لیکن حکومت کا اصل کام منصوبہ بندی ہے اور لنگر خانوں میں آنے والوں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس حکومت کے تین بجٹ کے بعد عوام پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ میرا گھر اورمیرا جیب خالی ہے، میں اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالوں، ادویات کہاں سے لاؤں۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…