ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بندر نے نوٹوں کی بارش کر دی

datetime 22  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )بھارت کے کئی شہروں میں بندروں کی بھرمار ہے لیکن آگرہ میں ان کی کچھ زیادہ ہی بہتات ہے اس لیے وہاں آنے والے سیاح ان بندروں کی شرارتوں سے سخت پریشان بھی رہتے ہیں جب کہ اس بار ایک بندر نے اپنی شرارت میں خاتون سیاح کا پرس چھین کر اس میں موجود نوٹ ہی لٹا ڈالے۔
بھارتی شہرآگرہ ایک سیاح خاتون خریداری میں مصروف تھی کہ اس دوران اچانک ایک بندر نے کمال پھرتی اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کا پرس چھینا اورچھلانگیں مارتا ہوا مندر کی چھت پر جا بیٹھا، بندر کی اس شرارت پر خاتون مدد کے لیے پکارنے لگی کہ اس دوران بنر نے فوراً پرس کھول کر اس میں سے 500 والے بنڈل نکال لیے، بندر نےنوٹ دیکھتے ہی فیصلہ کرلیا کہ آج وہ تو حاتم طائی کی سخاوت کا بھی ریکارڈ توڑ دے گا جس کے بعد بندرنے کچھ ہی دیر میں نوٹوں کو فضا میں اڑانا شروع کردیا جس سے ایسا لگا کہ آسمان نے نوٹوں کی بارش ہورہی ہو۔
بندر کی اس حرکت پروہاں ارد گرد کھڑے لوگوں نے نوٹوں کی بارش کو اپنے لیے رحمت سمجھتے ہوئے انہیں جمع کرنا شروع کردیا جب کہ بیچاری خاتون مدد کے لیے چیختی رہ گئی اور لوگ نوٹ جمع کرکے رفو چکر ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بندروں سے سیاح بہت پریشان ہیں کیوں کہ یہ بندر چھوٹی موٹی چوری نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے پرس، کیمرے جیسی قیمتی اشیا ان سے چھین لیتے ہیں جب کہ پولیس ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے میں بھی بے بس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…