اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

آپ فائل لے جائیں اور کسی اور سے مقدمے کا فیصلہ کروا لیں ٹھیک ہے عدالت مجھے نہیں سننا چاہتی تو ۔۔چیف جسٹس گلزار احمد اور وکیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

datetime 18  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پختونخواہ محکمہ تعلیم کیس میں کے پی حکومت کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد اور وکیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، خیبرپختونخواہ حکومت کی اپیل منظور ہونے کے

باوجود وکیل اونچی آواز میں دلائل دیتا رہا۔منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خیبر پختونخواہ محکمہ تعلیم کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ فائل لے جائیں کسی سے مقدمے کا فیصلہ کروا لیں جس پر وکیل نے کہا کہ ٹھیک ہے عدالت مجھے نہیں سننا چاہتی تو نہ سنے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں ایسی بات نہ کریں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ عدالت نے آپ کو سن لیا ہے، عدالت آپ کو مزید کتنا سنے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے گزارش کر لی ہے اب مزید نہیں سنیں گے۔محمد شمیم کو استاد کی آسامی کیلئے کے پی محکمہ تعلیم نے نااہل قرار دیا تھا، فیصلے کیخلاف رجوع کرنے پر پشاور ہائیکورٹ نے امیدوار کے حق میں فیصلہ سنایا تھا،کے پی حکومت نے ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…