ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

یورپی مصور کی 170 سال قدیم پینٹنگز بحالی کے بعد لاہور قلعے میں آویزاں

datetime 12  مئی‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) مشہور یورپی مصور آگسٹ شوفیٹ کی 170 سال قدیم پینٹنگز بحالی کے بعد لاہور قلعے میں آویزاں کر دی گئی ہیں۔ ہنگری کے مصور آگسٹ شوفیٹ کی پینٹنگز کی بحالی میں آرکیالوجی، والڈ سٹی اور ہنگری کے ماہرین نے حصہ لیا۔ اس ضمن میں سیکرٹری ٹورازم

اینڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ احسان بھٹہ نے بتایا کہ پاکستان میں ہنگری کے سابق سفیر استوین زابو اور انکی اہلیہ نے منصوبے میں ذاتی دلچسپی لی۔ موجودہ سفیر مسٹر بیلا فازیکاز نے بھی اپنے پیشرو کا مشن جاری رکھا۔ احسان بھٹہ نے کہا کہ ہنگری کا مصور آگسٹ شوفیٹ 1841 میں پنجاب کے حکمران مہاراجہ شیر سنگھ کے دربار میں آیا تھا۔ شوفیٹ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جانشین کے لئے کئی شہ پارے تخلیق کئے۔ بعدازاں آگسٹ شوفیٹ نے یورپ جاکر کئی ہندوستانی شخصیات کے سکیچ بھی بنائے۔ یہ تمام پینٹگز سکھ شہزادی بامبا سودرلینڈ نے واپس لاہور منگوائیں۔سیکرٹری ٹورازم اینڈ آرکیالوجی نے مزید بتایا کہ شہزادی بامبا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی تھی اور ماڈل ٹائون لاہور میں مقیم تھی۔ اس نے انگریز کرنل سودرلینڈ سے شادی کی۔ حکومت پاکستان نے بعدازاں یہ پینٹگز شہزادی بامبا کے قریبی شخص پیر کریم بخش سے خرید لیں۔ تاہم بعدازاں یہ شہ پارے لاہور قلعہ میں زمانے کی دست برد کا شکار ہوگئے۔ احسان بھٹہ نے بتایا کہ ہنگری کے سفارتخانے نے آگسٹ شوفیٹ کی 11 نایاب پینٹنگز کی بحالی شروع کرائی۔ زیادہ تر پینٹگز سکھ دور کے متعلق ہیں۔ ان میں مہاراجہ رنجیت سنگھ، کھڑک سنگھ، شیر سنگھ اور دلیپ سنگھ کے نادر پورٹریٹ شامل ہیں۔ آگسٹ شوفیٹ، لزلے پول سمتھ اور دیگر یورپی آرٹسٹوں کے شہ پارے شہزادی بامبا گیلری میں لگادیے گئے۔ ہنگری کی ٹیم مزید پینٹنگز کی بحالی میں مصروف ہے۔ یہ شہ پارے مصوری کے دلداہ افراد کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…