منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

چین کا خلاء میں بھیجا گیا راکٹ ”لانگ مارچ فائیو بی“ بے قابو ہوگیا، نیویارک سمیت دیگر گنجان آباد علاقوں پر گرنے کا خدشہ

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

بیجنگ (آن لائن) چین کا خلاء میں بھیجا گیا راکٹ ”لانگ مارچ فائیو بی“ بے قابو ہوگیا ہے، 21 ٹن وزنی خلائی جہازکی ہفتے کو زمین پر گرنے کی توقع ہے، نیویارک سمیت دیگر گنجان آباد علاقوں میں گر سکتا ہے، فی الحال گرنے کی جگہ کا تعین نہیں ہوسکا۔ تفصیلات کے مطابق چین کی طرف سے پچھلے ہفتے 29 اپریل کو چین نے خلا

میں اپنا علیحدہ خلائی اسٹیشن تعمیر کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے اپنا کریوماڈیول خلا کی طرف روانہ کیا تھا۔لانگ مارچ نامی سب سے بڑا چینی راکٹ تِیان ہے، ماڈیول عملے کے ارکان کو لے کر جمعرات کو خلائی سفر پر روانہ ہوا تھا، یہ مشن چین کے جنوبی جزیرے ہائینان پر قائم خلائی مرکز سے اپنے سفر پر روانہ ہوا، چین کی خواہش ہے کہ اس اسٹیشن کی تعمیر اگلے سال کے آخر تک مکمل ہو جائے۔بتایا گیا ہے کہ جب یہ واپس زمین کی طرف آرہا تھا تو بے قابو ہوگیا۔ 21 ٹن وزنی خلائی جہازکی ہفتے کو زمین پر گرنے کی توقع ہے، نیویارک سمیت دیگر گنجان آباد علاقوں میں گر سکتا ہے، فی الحال گرنے کی جگہ کا تعین نہیں ہوسکا۔امریکی حکومت کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ100فٹ لمبا راکٹ جہاز زمین کی طرف ایک چار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر طے کررہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ خلائی جہاز8مئی ہفتے کے روززمین پر گرے گا۔ دوسری جانب جو ماڈیول جمعرات کو خلا میں بھیجا گیا تھا اس سے متعلق بتایا گیا کہ مستقبل میں مستقل طور پر چینی خلائی اسٹیشن کے عملے کے تین ارکان رہ سکیں گے۔چینی حکومت کے منصوبوں کے مطابق اس خلائی اسٹیشن کو موجودہ آئی ایس ایس کی طرح بین الاقوامی سطح پر مل کر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اطلاعات کے مطابق

خلائی اور زمینی ماحول کے درمیان وسیع ماحولیاتی تفریق کے باعث کور ماڈیول کے موجودہ خلائی سفر کے دوران خلائی اسٹیشن کی نئی ٹیکنالوجی کی توثیق کی جائیگی مثلاً روبوٹ آرم ٹیکنالوجی وغیرہ۔بعد میں چینی خلاباز ماڈیول کے باہر ایک سے زیادہ خلائی مشن سرانجام دیں گے۔ چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی مشن کے منصوبے کے مطابق سال2021 تا 2022 کے دوران گیارہ لانچنگ مشنز عمل میں لائے جائیں گے۔ جن میں تین خلائی

اسٹیشن ماڈیول کی لانچنگ، کارگو خلائی جہاز کی لانچنگ اور خلائی جہازوں کی لانچنگ شامل ہیں۔ماس خلائی اسٹیشن کی 2022 تک مدار میں تکمیل کی جائے گی۔ چین کا خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں کام کر سکیگا۔ چینی وزیراعظم کا اس موقع پر تمام اسٹاف کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا، ”اس راکٹ کی لانچنگ سائنس، ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس میں ایک طاقتور ملک کی تعمیر کے لیے ایک سرکردہ پراجیکٹ کے آغاز کی نمائندگی کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…