بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

صوبائی دارلحکومت میں گوشت فروشوں کارمضان میں کاروبار بند کرنے کا عندیہ

datetime 13  اپریل‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)میٹ مرچنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن  نے متنبہ کیا ہے کہ گوشت فروشوں کے خلاف بلاجواز چھاپے بند نہ کیے گئے تو رمضان میں کاروبار بند کردیں گے یہ باتیں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کراچی پریس کلب ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سکندر اقبال قریشی نے کہا کہ پر امن طور پر احتجاج کا

حق استعمال کرنا ہمارا حق ہے سات برس سے حکومت نے گوشت کے نرخ مقرر نہیں کیے،کیا اس دوران مہنگائی نہیں بڑھی؟انہوں نے کہا کہ سرکاری نرخ پر گوشت عوام کو دینا چاہتی ہے تو ہمیں جانور سرکاری نرخ پر فراہم کرے۔ سات برس پرانے نوٹیفکیشن پر گرفتار یاں کس قانون کے تحت کی جارہی ہیں کراچی پریس کلب میں اس موقع پر میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سکندر قریشی فنانس سیکرٹری سراج قریشی ،سیکریٹری شاہد حسین قریشی،کامل قریشی،ہارون قریشی،حاجی عبداللہ،عارف قریشی ودیگر بھی موجود تھے۔سکندر قریشی نے اس موقع پر کہا کہ اس وقت مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اشیائے ضرورت کی ہر چیز مہنگی ہوچکی ہے ان کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکاہے اس طرح دیگراشیاکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے  ملک میں جانوروں کی شدید قلت ہے اس کے باوجود حکومت بڑے پیمانے پر گوشت کی برآمد کرنے کے لئے لائسنس جاری کر رہی ہے اور اس سے زندہ جانور بڑے پیمانے پر ایران افغانستان اور دیگر ملکوں میں اس کے جا رہے ہیں اب اسمگل کیے جارہے ہیں ان کے اسمگلروں کے ایجنٹ جانوروں کی وجہ سے مہنگا جانور خرید لیتے ہیں اور عام فروخت کنندہ کو میں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے نو ہمیں مجبورا مہنگا گوشت فروخت کرنا پڑتا ہے سکندر اقبال قریشی نے کہا کہ گوشت کے سرکاری نرخ جو انتظامیہ نے طے کیے ہیں وہ سات سال پرانے ہیں اور سات سالوں میں جس طرح مہنگائی بڑھی ہے اس قیمت پر فروخت کرنا ممکن نہیں اور اس سات سال پرانے نوٹیفکیشن کے مطابق انتظامیہ بھاری جرمانے عائد کر رہی ہے ا س سے کراچی میں بہت سی دکانیں بند ہو چکی ہیں اور وہ بے روزگار ہو رہے ہیں یہ انتظامیہ کی جانب سے گوشت فروشوں کے خلاف زیادتی ہے اگر انتظامیہ کی سرکاری نرخ پر گوشت فروخت کرنا چاہتی ہے تو وہ گوشت فروشوں کو رمضان میں بلامنافع گوشت فراہم کرنے پر تیار ہیں احتجاج کے طور پرکاروبار بند کرنایہ ہمارا آئینی حق استعمال کریں اور اپنا کاروبار بند کر دیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…