بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ڈسکہ کے دیوانوں نے اس نواز شریف کے بیانیے کو ووٹ دیا جسے کچھ محب وطن لوگ آج کل غدار کہا کرتے ہیں ضمنی انتخابات کے نتائج پر حامد میر کھل کر بول پڑے

datetime 13  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ، اینکر پرسن اور کالم نگار حامد میر روزنامہ جنگ میں اپنے کالم ”دھند اور دہشت کی شکست ” میں لکھتے ہیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن 10اپریل 2021کو ڈسکہ والوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 19فروری کے دن ڈسکہ کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر تمام دن فائرنگ کی گئی تاکہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹر خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں اور ریاستی

مشینری آسانی سے اپنے امیدوار کو جتوا سکے۔ تمام دن فائرنگ سے کام نہ بنا تو پھر رات کو چھائی دھند سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ بیس سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کے پریذائیڈنگ افسروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرکے انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے اور حکمران جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی نے خود ہی اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا لیکن الیکشن کمیشن نے نتیجہ روک لیا اور یہ تحقیق کی کہ بیس سے زائد پریذائیڈنگ افسران تمام رات کہاں غائب رہے؟ الیکشن کمیشن کو پتہ چل گیا کہ ان پریذائیڈنگ افسران نے نتائج تبدیل کئے تھے لہذا الیکشن کمیشن نے این اے 75میں دوبارہ ضمنی الیکشن کا اعلان کردیا۔ حکمران جماعت نے ایک طرف الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے خلاف ایک تقریر کر دی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک وزیراعظم نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ سپریم کورٹ میں حکومت وقت نے الیکشن کمیشن کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن آخر کار حکومت وقت ہار

گئی اور سپریم کورٹ نے این اے 75میں ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔10اپریل کو این اے 75میں حکمران جماعت کے علی اسجد ملہی جیت جاتے تو الیکشن کمیشن کی پوزیشن مشکوک ہو سکتی تھی لیکن صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ کی بیٹی نوشین افتخار نے علی اسجد ملہی کو ہرا دیا۔ یہ صرف نوشین افتخار کی فتح نہیں تھی

بلکہ الیکشن کمیشن بھی سرخرو ہو گیا۔ ریاستی دہشت کے مقابلے پر ریاست کا قانون جیت گیا۔ 10اپریل کو ڈسکہ میں دھند نہیں تھی لیکن اقتدار کے نشے میں مست کچھ طاقتور لوگوں کے ذہنوں پر بدستور دھند چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر اسلحے کی نمائش کے ذریعہ اپنی دہشت قائم

کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ دھند اور دہشت کو شکست دینے پر ڈسکہ کے بہادر لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈسکہ کے دیوانوں نے اس نواز شریف کے بیانیے کو ووٹ دیا جسے کچھ محب وطن لوگ آج کل غدار کہا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…