منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

میکسیکو میں بارش کے لیے خواتین کے درمیان خونریز لڑائی کی رسم

datetime 15  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )دنیا کے مختلف علاقوں میں بارش کے لیے مختلف عقائد کے مطابق دعائیں کی جاتی ہیں یا پھر مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں لیکن میکسیکو کے دیہاتوں میں بارش کے لیے ایک عجیب و غریب کام کیا جاتا ہے جس میں خواتین کے درمیان خون ریز لڑائی ہوتی ہے۔میکسیکو کے علاقے گوریرو کے ناہوا دیہاتوں میں کئی برسوں سے فصلوں پر بارش برسانے کے لیے یہ رسم جاری ہے جسے مذہبی درجہ بھی حاصل ہے۔ ہر سال کے مئی میں پہلے دن خواتین جلد اٹھ کر خوراک کی ایک بہت بڑی مقدار جمع کرتی ہیں جس میں چاول، مرغی، ابلے انڈے اور روٹیاں شامل ہوتی ہیں اور خواتین اس تمام سامان کو لڑائی کے میدان میں لے جاتی ہیں۔دنگل کے میدان کو پھولوں اور کھانے سے سجایا جاتا ہے اور لڑائی سے قبل دعائیں کرتی ہیں اس کے بعد دیہاتی دائرہ بناتے ہیں جہاں عموما ایک دوسرے سے طویل رقابت رکھنے والے لا ایسپرانزا اور ایل رونچو قبائل کی خواتین کی لڑائی ہوتی ہے۔ اس مقابلے میں ایک خاتون عام طور پر جوان لڑکیوں کو لڑائی کے لیے اشتعال دلایا جاتا ہے جہاں وہ اندھا دھند لڑائی شروع کردیتی ہیں اور اس لڑائی میں ہارجیت کے بجائے زیادہ خون بہانے اور اسے جمع کرنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔لڑائی کے دوران خواتین ایک دوسرے کو لہولہان کردیتی ہیں،
مزیدپڑھیے :فیس بک نے ایک نیافیچرمتعارف کرادیا
یہ لڑائی شام تک جاری رہتی ہے جب کہ لڑائی میں خواتین کے چہروں سے خون ٹپکتا ہے جسے بعد میں جمع کرکے فصلوں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کی اس مذہبی رسم اور عقیدے کے بنا پر بارش ہوسکے، لڑائی کے بعد خواتین ایک دوسرے سے ناراض ہونے کی بجائے ہنسی خوشی گلے مل کر رخصت ہوتی ہیں۔میکسیکو میں ہونے والی اس خونریز رسم پر تحقیق کرنے والے ایک پروفیسر کے مطابق خواتین کی خوںریز لڑائی کی رسم سیکڑوں سال پرانی ہے جس کا سلسلہ میکسیکو کی ازطق تہذیب سے جا ملتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…