منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے پابندی ختم کرنے کے بعد ٹک ٹاک انتظامیہ کا ردعمل آگیا،بڑا اعلان کردیا

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

پشاور (این این آئی)پشاور ہائیکورٹ نے ملک میں ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن ٹک ٹاک کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے غیراخلاقی مواد کی روک تھام کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کردی۔ جمعرات کو عدالت عالیہ میں ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے

ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر لیگل اور وکیل جہانزیب محسود اور درخواست گزار کی وکیل سارہ علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ڈی جی صاحب اب تک کیا ایکشن لیا ہے جس پر ڈی جی، پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور ٹک ٹاک نے فوکل پرسن بھی تعینات کردیا ہے۔ڈی جی پی ٹی اے نے کہا کہ جتنی بھی غیر اخلاقی اور غیر قانونی چیزیں اپلوڈ ہوں گی ان کو دیکھا جائے گا۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس ایسا سسٹم ہونا چاہیے جو اچھے اور برے میں تفریق کرے، پی ٹی اے ایکشن لے گی تو لوگ پھر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کریں گے۔چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ جب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ پی ٹی اے ہمارے خلاف ایکشن لے رہی ہے تو پھر وہ ایسی چیزیں اپ لوڈ نہیں کریں گے۔ڈی جی پی ٹی اے نے کہا کہ ہم نے ٹک ٹاک

انتظامیہ کے ساتھ بات کی ہے کہ جو بار بار ایسی غلطی کرتے ہیں ان کو بلاک کریں۔جسٹس قیصر رشید نے ہدایت کی کہ یہ ون ٹائم نہیں ہونا چاہیے آپ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد روکنے کے مزید اقدامات کریں جس پر پی ٹی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ سائٹس ایسی ہیں

جس میں مخصوص چیزیں بلاک نہیں ہوسکتیں پوری ویب سائٹ کو بند کرنا پڑتا ہے۔بعدازاں عدالت نے ٹک ٹاک دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ڈی جی پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر

تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی۔ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن کھولنے کے عالتی حکم پر ٹک ٹاک انتظامیہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹِک ٹِک کی جانب سے محفوظ اور مثبت آن لائن کمیونٹی کے فروغ کی خاطر کمیونٹی گائیڈ لائنز

پر عمل درآمد کرنے کے لیے ہماری مسلسل وابستگی کا ثبوت ہے۔ایک بیان میں ترجمان ٹک ٹاک نے کہا کہ ٹک ٹاک برادری کی تخلیقی صلاحیتوں اور جذبے نے پورے پاکستان میں گھرانوں میں خوشی پیدا کی اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کے حامل کری ایٹرز کو جگہ فراہم کی۔بیان میں کہا گیا

کہ ہم پی ٹی اے کے تعاون اور جاری پیداواری بات چیت کو تسلیم کرتے اور پاکستانی صارفین کے ڈیجیٹل تجربے کے لیے ان کے خیال کو سمجھتے ہیں۔خیال رہے کہ 11 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کے باعث پابندی عائد کردی تھی، عدالت نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے لہذا اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔عدالت نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک پر اپلوڈ ہونے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں، اس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…