جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ حکومت کا کوئی اسکول بند نہ کرنے کا اعلان

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن) وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلیں رہیں گے۔ اس وقت سندھ میں کرونا وائرس کی صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ این سی او سی کے تعلیم کے حوالے سے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اس سال کسی بھی درجے میں بغیر امتحانات کسی کو

پرموٹ نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز این سی او سی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتاتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے اور اس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور اس صورتحال کے پیش نظر ملک کے کچھ اضلاع میں 11 اپریل تک تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الحمداللہ سندھ میں کرونا وائرس کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور یہاں پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مقابلے مریضوں کی تعداد میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلیں رکھیں جائیں گے البتہ ایس او پیز کے تحت صرف 50 فیصد ہی بچوں کو بلایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہوں گے اور اگر کسی بھی تعلیمی ادارے میں خدانخواستہ کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے آتا ہے تو اس اسکول یا کالج کو بند کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی تعلیمی ادارہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرے گا تو نہ صرف اس کو بند کیا جائے گا بلکہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔ صوبے میں امتحانات کے شیڈول کے حوالے سے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے بتایا کہ سندھ میں محکمہ تعلیم کی اسٹئیرنگ کمیٹی کے فیصلے اور شیڈول کے مطابق تمام امتحانات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…