اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

32 سال تک سرکاری مراعات کے مزے لینے والا پولیس افسر جعلی نکلا، جعلی آرڈر پر اے ایس آئی بھرتی ہونے والے اعجاز ترین کو عدالت نے نوکری سے برخاست کر دیا

datetime 19  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی) جعلی تقرر نامے پر اے ایس آئی سے ایس پی بننے والے کا راز 32 سال بعد فاش ہوگیا، جس کے بعد آئی جی سندھ نے جعلی تقرر نامے پر کام کرنے والے ڈی ایس پی کو ہٹانے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کی تاریخ میں جعلسازی کا انوکھا کیس سامنے آیا، جعلی تقرر نامے پر 32 سال نوکری کرنیوالا

ایس پی جعلی نکلا۔جعلی لیٹرپر بھرتی کا انکشاف سنیارٹی کیلئے کی گئی اپیل کی جانچ پڑتال میں ہوا، اعجازترین نے جعلی تقررنامے پر اے ایس آئی سے ایس پی تک نوکری کی اور 32 سال تک سرکاری مراعات کے مزے لیتا رہا۔ اعلی افسران کو خبر تک نہ ہوئی کہ پروموشن پر پروموشن لینے والا جعلی ہے، بھرتی اسلام آباد پولیس سے ہوئی اور سندھ ٹرانسفر کرایا گیا، مبینہ جعلی لیٹرپربھرتی اعجازترین آؤٹ آف ٹرن میں ترقی کرتا ایس پی تک پہنچا۔ اعجازترین کی بطور ایس پی سندھ میں کئی شہروں میں پوسٹنگ رہی، وہ بلاول بھٹو سمیت اہم شخصیات سے ملتا رہا تاہم جب عدالتی احکامات کے بعد آٹ آف ٹرن ترقی واپس ہوئی تو انسپکٹر بن بیٹھا اور بطور انسپکٹر درجنوں تھانوں میں ایس ایچ او رہا۔انسپکٹر اعجاز ترین نے 16اگست 1989 کا تقرر نامہ پیش کیا اور 1997 میں اسلام آباد پولیس سے اصلی حکمنامے پر سندھ پولیس آگیا۔آئی جی سندھ نے جعلی تقرر نامے پر کام کرنے والے ڈی ایس پی کو ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے سرکاری اسلحہ و سامان واپس لینے کی ہدایت کردی ہے۔اعجازترین نے بتایاکہ عدالتی حکم پرملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے، فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔  جعلی تقرر نامے پر اے ایس آئی سے ایس پی بننے والے کا راز 32 سال بعد فاش ہوگیا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…