جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سڑکوں پر پیدل خوار ہونے والے چند دنوں میں ارب پتی کیسے بن گئے؟کیا ان کے گھروں سے تیل نکل آیا تھا؟ فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کے نیب کی مہمان بننے کی خواہش ظاہر کر دی

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن)معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا ہے کہ جنہوں نے نیب پر آستینیں چڑھائیں اور گاڑیوں میں پتھر بھر کر آتے رہے اب وہ قانون کے بلاوے پر حاضری سے جان چھڑا رہے ہیں۔ یہ لوگ سب کچھ بتاتے ہیں، نہیں بتاتے تو اپنی منی لانڈرنگ کے بارے کچھ نہیں بتاتے۔ میں چاہوں گی کہ مریم نواز

بھی نیب کی مہمان بنے۔ نیب اپنے ان مہمانوں کا بڑا خیال رکھتا ہے اور پہلے بھی ان کو گھر سے کھانا منگوا نے کی اجازت دیتا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کس نے اندر جانا ہے کس نے باہر آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی سیاست میں شہباز شریف اور حمزہ کی خاموشی عجیب ہے۔ نیب ایک ادارہ ہے کوئی ادارے پر پتھربرساتا ہے تو قانون پر برساتا ہے۔ادارے جب ان کو طلب کرتے ہیں تو ان کی شان میں گستاخی ہوتی ہے۔ یہ تحریک انصاف کی جیت ہے کہ ہم نے طاقتور کو قانون کے تابع کیا ہے۔ ہمیں ان سے پہلے بھی کوئی خطرہ نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔ہم نے عوام کو مشکلات سے نکالنا ہے۔ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ظل سبحانی نے سرکاری رہائشی سکیموں کے پلاٹ ریوڑیوں کی طرح بانٹے۔انہوں نے لینڈ مافیا کی آڑ میں اپنی اے ٹی ایم مشینوں کی سرپرستی کی۔شہداء، بیوگان اور یتیموں کے کوٹے کے پلاٹ اپنوں میں بانٹے۔رہائشی سکیموں کے پبلک مقامات کو بھی پلاٹ بنا کر بانٹ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چائنہ کٹنگ کا بانی ظل سبحانی ہے۔صرف جاتی امرہ کی خاطرپورے لاہور کا ماسٹر پلان بدل دیا گیا۔راتوں رات امیر ہونے والوں کا یوم حساب آن پہنچا ہے۔ قوم حیران ہے کہ سڑکوں پر پیدل خوار

ہونے والے چند دنوں میں ارب پتی کیسے بن گئے؟کیا ان کے گھروں میں تیل یا خزانے کی دیگیں نکل آئی تھیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے لاہور کی مٹی بیچ ڈالی۔ انہیںلاہوریئے معاف کریں گے نہ قوم۔ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہ تھی۔سینکڑوں کنال قیمتی جائیدادوں کے کھاتے خود بول رہے ہیں کہ ہمارا مالک کون ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…