جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیر داخلہ کی وہ پیش گوئی جو سچ ثابت ہو گئی

datetime 17  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس آنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں تاہم زندگی یا موت کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی، پی ڈی ایم میں کافی اختلافات ہیں،اپوزیشن اراکین استعفے نہیں دینا چاہتے ، چند روز بعد رمضان المبارک ہے ، عبد الفطر کے بعد ہی ان کے منصوبے کا پتہ لگے گا ۔ ایک انٹرویومیں شیخ رشید احمد نے کہا کہ

مولانا فضل الرحمان گزشتہ روز بہت غصے میں نظر آئے، پہلے ہی کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ ہوگا، پی ڈی ایم کی سیاست کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے، مولانا فضل الرحمان نے پہلے بھی لانگ مارچ کیا تھا اور ایک سال پہلے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا، یہ بہت مشکل کام ہیں، اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے ارکان بھی استعفے نہیں دینا چاہتے کیونکہ ارکان اسمبلی یہ ضرور سوچتے ہیں کہ حلقے میں ان کا مد مقابل کون ہوگا، چند روز بعد رمضان المبارک ہے اور پھر عید الفطر کے بعد ہی ان کے منصوبے کا پتہ لگے گا۔نواز شریف سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف کو واپس آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہیں، زندگی یا موت کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی، یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو ہمارے اختیار میں ہے وہ ہم کرسکتے ہیں، نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہوگئی ہے۔ انہیں وطن واپسی کی اسی صورت میں اجازت ہوگی جب وہ وزارت داخلہ کو تحریری درخواست دیں تو انہیں 24 گھنٹے میں اجازت نامہ جاری کردیا جائے گا۔مریم نواز کی جانب سے حکومت کو قاتل کہنے سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ یہ سب سوچ کا فرق ہے، میں اس اجلاس میں شامل تھا جب بے نظیر بھٹو کو کہا گیا کہ وہ لیاقت باغ راولپنڈی اور پشاور کے جلسہ نہ کریں تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا، موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی، پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دہشتگردی کے خدشات ہیں لیکن ملک میں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ کس کی جان کو کب اور کیا خطرہ ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔استعفوں سے متعلق آصف زرداری کے موقف پر شیخ رشید نے کہا کہ آصف علی زرداری کی اپنی سیاست ہے، انہوں نے سینیٹ کو حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 2 سے 3 ماہ بعد سیاست کا پتہ چلے گا کیونکہ ریلی اور لانگ مارچ کے لیے بہت تیاری کی ضرورت ہے۔پی ڈی ایم اتحاد سے متعلق شیخ رشید احمد نے کہا کہ پی ڈی ایم میں کافی اختلافات ہیں، یہ لوگ متحد نہیں تھے بس یہ عمران خان کے خلاف اکٹھے ہوئے تھے،گزشتہ روز پی ڈی ایم کے اجلاس میں جو فیصلہ ہوا وہ حکومت اور وزارت داخلہ کے لئے بہتر ہوا۔ اسلام آباد میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، لانگ مارچ کی صورت میں یہ وائرس مزید تیزی سے پھیل سکتا تھا۔ عام انسانوں کی جانوں کا تو کوئی نہیں سوچتا، پی ڈی ایم کی انتشار اور خلفشار کی سیاست ہے۔ ان کی سیاست سے حکومت کو فائدہ ہوگا، کیونکہ ہم مہنگائی میں کمی اور دیگھر کاموں پر توجہ دے سکیں گے۔ سیاست میں جتنی تیزی آرہی تھی وہ اب نہیں آئے گی اور روزے ٹھنڈے گزریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…