جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ الیکشن: اپوزیشن ناشتے پر کتنے سینیٹرز جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی

datetime 12  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کے لیے رسہ کشی جاری ہے۔نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق اپوزیشن اپنے ناشتے پر 51 سینیٹرز پورے کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور سینیٹ میں اپنی جیت کے دعوے بھی کررہی ہے۔چیئرمین سینیٹ کے لیے پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے بیٹے

علی حیدر گیلانی نے جیت کی پیش گوئی کی ہے اور کہا کہ انشا اللہ ہم پانچ ووٹوں سے جیتیں گے۔دوسری طرف آج ہونے والے سینیٹ اجلاس میں 48 نو منتخب ارکان سینیٹ نے حلف اٹھا لیا ہے جس میں سب سے زیادہ سینیٹرز کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔تفصیلات کے مطابق نو منتخب ارکان سینیٹ نے 6 سال کی مدت یعنی 2021 سے 2027 تک کے لیے بطور سینیٹر حلف اٹھا لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے محسن عزیز، لیاقت تراکئی، شبلی فراز، فیصل سلیم، ذیشان خانزادہ، دوست محمد خان، ہمایوں مہمند نے حلف اٹھایا۔ اس کے علاوہ ثانیہ نشتر، فلک ناز، گردیپ سنگھ، فوزیہ ارشد، سیف اللہ نیازی، عون عباس، اعجاز چوہدری، علی ظفر نے بھی حلف لیا۔ پی ٹی آئی کے فیصل ووڈا، سیف اللہ آبڑو اور عبدالقادر نے بھی بطور سینیٹر حلف اٹھا لیا۔پیپلز پارٹی کے 8 سینٹرز جن میں شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، تاج حیدر، شہادت اعوان، جام مہتاب دیہڑ، پلوشہ خان، فاروق ایچ نائیک اور یوسف رضا گیلانی بھی بطور سینیٹر حلف اٹھا لیا ہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے 6 سینٹرز پرنس احمد عمر، منظور احمد، سرفراز بگٹی، سعید ہاشمی، ثمینہ مشتاق اور دانش کمار بھی سینیٹر کا حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔مسلم لیگ ن کے 5 سینٹرز ڈاکٹر عفنان اللہ، سعدیہ عباسی، ساجد میر، اعظم نزیر تاررڑ اور عرفان صدیقی نے بھی حلف اٹھا لیا ہے۔جمعیت علماء اسلام ف کے سینٹرز مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ اور عطاء الرحمان بھی بطور سینیٹر حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔اے این پی کے ہدایت اللہ اور عمر فاروق، ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اور خالدہ اطیب، بی این پی کے محمد قاسم اور نسیمہ احسان جب کہ مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…