ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

پیپر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے سینکڑوں پیپر ملیں بند ہوگئیں

datetime 11  مارچ‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)مقامی اور درآمدی پیپر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے سینکڑوںپیپر ملیں بند ہوگئیں جبکہ پیپرکا خام مال بھی پاکستانی مارکیٹ سے غائب ہوگیا۔پیپرملیں بند ہونے سے مزدور بے روز گار ہوگئے ۔اس تشویشناک صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے آل پاکستان کوروگیٹڈ کارٹن مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا اہم ترین

اجلاس گزشتہ روزچیئرمین مسرورمرزا کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پیپرانڈسٹری سے وابستہ صنعتکاروں اور تاجروں نے شرکت کی۔اجلاس میں پیپرکیقیمت میں غیرمعمولی اضافے پر اظہار تشویش کیا گیا۔مسرور مرزا نے کہا کہ عالمی اورمقامی مارکیٹ میں ردیکی عدم دستیابی کی وجہ سے پیپرانڈسٹری کو مسائل کا سامنا ہے ،دنیا بھر میںکووڈ19کی وجہ سے بدترین پریشانیوں نے گھیرے ڈال دیئے ہیں،پیپرانڈسٹری بھی بدترین مسائل سے دوچار ہوگئی ہے اورویسٹ پیپر کی قلت اورکرائے بڑھنے کے سبب کنٹینرز کی عدم دستیابی نے انڈسٹری کو تالے لگوادیئے ہیں،کئی انڈسٹریاں بند ہوچکی ہیں۔مسرور مرزا نے کہا کہ ہماری ہرممکن یہ کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال میں سپلائی چین متاثر نہ ہولیکن پیپرملیں10مارچ سے16مارچ تک بند ہیں جس کی وجہ سے مال کی خریداری مشکل ہورہی ہے اوراگر ہم مال خریدتے ہیں تو ہمیں25سے30فیصد اٖضافی قیمتوں کے ساتھ خریدنا پڑتا ہے،ہماری صارفین سے گزارش ہے کہ پیپر کی قیمتوں میں 25سے30فیصد اضافے کو برداشت کریں ورنہ مجبوراً ہمیں اپنی یونٹ 18مارچ تک بند کرنے پڑیں گے۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ ردی کی قلت سے پیدا شدہ صورتحال میں پیپرانڈسٹری کو سبسیڈی دی جائے ،پیپر پر موجودہ ڈیوٹی ختم کی جائے،

ایکسپورٹ زیادہ اورامپورٹ کم ہونے کی وجہ سے بھی ہمیں ردی کی کمی کا سامنا ہے اس لئے حکومتپیپر کی ایکسپورٹ کو روکے تاکہ مقامی پیپر انڈسٹری اس بحرانی کیفیت سے نمٹ سکے۔انہوں نے کہا کہکارٹن انڈسٹری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر یہ انڈسٹری رک گئی تو نہ ایکسپورٹ ہوسکے گی اورنہ لوکل انڈسٹری مثلاً کنفکشنری،فارما،فوڈ،گھی،تیل وغیرہ کی صنعتیں بھی بند ہوجائیں گی جس کی وجہ سے ملکی معیشت کا پہیہ جام ہوجانے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…