جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پیپر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے سینکڑوں پیپر ملیں بند ہوگئیں

datetime 11  مارچ‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)مقامی اور درآمدی پیپر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے سینکڑوںپیپر ملیں بند ہوگئیں جبکہ پیپرکا خام مال بھی پاکستانی مارکیٹ سے غائب ہوگیا۔پیپرملیں بند ہونے سے مزدور بے روز گار ہوگئے ۔اس تشویشناک صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے آل پاکستان کوروگیٹڈ کارٹن مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا اہم ترین

اجلاس گزشتہ روزچیئرمین مسرورمرزا کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پیپرانڈسٹری سے وابستہ صنعتکاروں اور تاجروں نے شرکت کی۔اجلاس میں پیپرکیقیمت میں غیرمعمولی اضافے پر اظہار تشویش کیا گیا۔مسرور مرزا نے کہا کہ عالمی اورمقامی مارکیٹ میں ردیکی عدم دستیابی کی وجہ سے پیپرانڈسٹری کو مسائل کا سامنا ہے ،دنیا بھر میںکووڈ19کی وجہ سے بدترین پریشانیوں نے گھیرے ڈال دیئے ہیں،پیپرانڈسٹری بھی بدترین مسائل سے دوچار ہوگئی ہے اورویسٹ پیپر کی قلت اورکرائے بڑھنے کے سبب کنٹینرز کی عدم دستیابی نے انڈسٹری کو تالے لگوادیئے ہیں،کئی انڈسٹریاں بند ہوچکی ہیں۔مسرور مرزا نے کہا کہ ہماری ہرممکن یہ کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال میں سپلائی چین متاثر نہ ہولیکن پیپرملیں10مارچ سے16مارچ تک بند ہیں جس کی وجہ سے مال کی خریداری مشکل ہورہی ہے اوراگر ہم مال خریدتے ہیں تو ہمیں25سے30فیصد اٖضافی قیمتوں کے ساتھ خریدنا پڑتا ہے،ہماری صارفین سے گزارش ہے کہ پیپر کی قیمتوں میں 25سے30فیصد اضافے کو برداشت کریں ورنہ مجبوراً ہمیں اپنی یونٹ 18مارچ تک بند کرنے پڑیں گے۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ ردی کی قلت سے پیدا شدہ صورتحال میں پیپرانڈسٹری کو سبسیڈی دی جائے ،پیپر پر موجودہ ڈیوٹی ختم کی جائے،

ایکسپورٹ زیادہ اورامپورٹ کم ہونے کی وجہ سے بھی ہمیں ردی کی کمی کا سامنا ہے اس لئے حکومتپیپر کی ایکسپورٹ کو روکے تاکہ مقامی پیپر انڈسٹری اس بحرانی کیفیت سے نمٹ سکے۔انہوں نے کہا کہکارٹن انڈسٹری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر یہ انڈسٹری رک گئی تو نہ ایکسپورٹ ہوسکے گی اورنہ لوکل انڈسٹری مثلاً کنفکشنری،فارما،فوڈ،گھی،تیل وغیرہ کی صنعتیں بھی بند ہوجائیں گی جس کی وجہ سے ملکی معیشت کا پہیہ جام ہوجانے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…