جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ انتخابات،اپوزیشن اور حکومت کے پاس کتنے ارکان ہیں، کس کا پلڑا بھاری؟ رپورٹ میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 11  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوگا ،سینیٹ کی موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق اپوزیشن کے پاس 51 اور حکومت کے پاس 47 ارکان ہیں۔100ارکان کے ایوان بالا میں 99 ارکان موجود ہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے اسحاق ڈار حلف نہ اٹھانے اور بیرون ملک ہونے کے باعث ایوان کا حصہ نہیں ہیں۔

اگر موجودہ اور نو منتخب سینیٹرز میں پاکسٹان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد کو اکھٹا دیکھیں تو ان کے ارکان کی تعداد 51 بنتی ہے۔اس میں پیپلز پارٹی کے 21، مسلم لیگ ن کے 17، نیشنل پارٹی کے 2، پی کے میپ کے 2، جمعیت علمائے اسلام کے 5، بی این پی کے 2 اور اے این پی کے 2 ارکان شامل ہیں۔حکومتی اتحاد کو دیکھیں تو پی ٹی آئی کے 27، بلوچستان عوامی پارٹی کے 12، ایم کیو ایم کے 3، مسلم لیگ فنکشل کا 1، مسلم لیگ ق کا 1 اور فاٹا کے 3 سینیٹرز شامل ہیں، اس طرح حکومتی ارکان کی تعداد 47 بنتی ہے۔۔ایسے میں ایک ووٹ بچتا ہے جو جماعت اسلامی کا ہے، جواب تک غیر جانبدار ہے اور ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق بلوچستان میں اے این پی اتحاد کا حصہ ہے ،، ایسے ہی آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والی خاتون رکن بلوچستان عوامی پارٹی کے ووٹ سے کامیاب ہوئیں ، وہ بی این پی کا حصہ ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہو گا، لہٰذا اس میں سوئنگ ووٹ کا کلیدی کردار ہو سکتا ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوگا ،سینیٹ کی موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق اپوزیشن کے پاس 51 اور حکومت کے پاس 47 ارکان ہیں۔100ارکان کے ایوان بالا میں 99 ارکان موجود ہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے اسحاق ڈار حلف نہ اٹھانے اور بیرون ملک ہونے کے باعث ایوان کا حصہ نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…