اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارجز عائد کرنے کا اختیار مل گیا

datetime 11  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بجلی نے کثرت رائے سے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری دے دی، بل کے تحت وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارجز عائد کرنے کا اختیار مل گیا، اراکین کمیٹی شازیہ مری اور سائرہ بانو نے بل کی منظوری پر حکومت کے خلاف

سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرچاجز لگانے کی منظوری دینا مہنگائی تلے دبے عوام کے ساتھ دشمنی اور ظلم ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت ہوا سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرض 23کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تومعیشت دب جائے گی۔وزیر توانائی نے عمر ایوب نے کہا کہ گردشی قرض اور بجلی مہنگی ہونے کی ذمہ دار سابق حکومت ہے انھوں نے کہا کہ نئے بجلی منصوبوں کے باعث کیپیسٹی چارجز ایک ہزار پچپن ارب روپے سالانہ ہو جائیں گے،پاور سیکٹر میں گردشی قرض روکنے کیلئے سرچارج عائد کرنا ناگزیر ہے۔رکن کمیٹی سائرہ بانو نے کہا کہ سیدھی بات کی جائے سرچارجز لگانا آئی ایم ایف کی شرط ہے رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ پاورسیکٹر کی کمزوریوں کی سزا عوام کو نہ دی جائے سرچارجز لگانے سے متعلق چار اراکین نے بل کی مخالفت جبکہ پانچ نے حق میں ووٹ دیا۔  بل کے تحت وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارجز عائد کرنے کا اختیار مل گیا، اراکین کمیٹی شازیہ مری اور سائرہ بانو نے بل کی منظوری پر حکومت کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرچاجز لگانے کی منظوری دینا مہنگائی تلے دبے عوام کے ساتھ دشمنی اور ظلم ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…