بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارجز عائد کرنے کا اختیار مل گیا

datetime 11  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بجلی نے کثرت رائے سے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری دے دی، بل کے تحت وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارجز عائد کرنے کا اختیار مل گیا، اراکین کمیٹی شازیہ مری اور سائرہ بانو نے بل کی منظوری پر حکومت کے خلاف

سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرچاجز لگانے کی منظوری دینا مہنگائی تلے دبے عوام کے ساتھ دشمنی اور ظلم ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت ہوا سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرض 23کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تومعیشت دب جائے گی۔وزیر توانائی نے عمر ایوب نے کہا کہ گردشی قرض اور بجلی مہنگی ہونے کی ذمہ دار سابق حکومت ہے انھوں نے کہا کہ نئے بجلی منصوبوں کے باعث کیپیسٹی چارجز ایک ہزار پچپن ارب روپے سالانہ ہو جائیں گے،پاور سیکٹر میں گردشی قرض روکنے کیلئے سرچارج عائد کرنا ناگزیر ہے۔رکن کمیٹی سائرہ بانو نے کہا کہ سیدھی بات کی جائے سرچارجز لگانا آئی ایم ایف کی شرط ہے رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ پاورسیکٹر کی کمزوریوں کی سزا عوام کو نہ دی جائے سرچارجز لگانے سے متعلق چار اراکین نے بل کی مخالفت جبکہ پانچ نے حق میں ووٹ دیا۔  بل کے تحت وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارجز عائد کرنے کا اختیار مل گیا، اراکین کمیٹی شازیہ مری اور سائرہ بانو نے بل کی منظوری پر حکومت کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرچاجز لگانے کی منظوری دینا مہنگائی تلے دبے عوام کے ساتھ دشمنی اور ظلم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…