اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

اردو ادب کی ممتاز افسانہ نگار شمع خالد انتقال کرگئیں

datetime 10  مارچ‬‮  2021 |

راولپنڈی (این این آئی) اردو ادب کی ممتاز افسانہ نگار شمع خالد طویل علالت کے بعد دْنیا چھوڑ گئیں۔ اْن کے افسانوں میں زندگی کی شمع ہر رنگ میں جلتی تھی۔خْوب صورت ذہن اور مثبت سوچ، زندگی کی تلخ حقیقتوں کو سمجھنے میں آسانی پیدا کردیتی ہے۔کسی بھی فن سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی شمع خالد نے اپنا قلم سے رشتہ اس وقت جوڑا تھا، جب بچے کھلونوں اور گڑیوں سے کھیل پر اپنا دل خوش کرتے ہیں۔انہوں نے زندگی کی جنگ قلم سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔وہ اس جنگ میں ہار جیت کی پروا کیے بغیر آگے بڑھتی رہیں، انہیں شہرت اور کام یابی کا کبھی لالچ نہیں رہا۔وہ لکھتی رہیں اور آگے بڑھتی رہیں۔اس تخلیقی سفر میں اپنے پڑھنے والوں کو کتابوں کے تحائف دیتی رہیں۔شمع خالد نے ساری زندگی قلم کی آب یاری میں گزاری، پتھریلے چہرے 1985ء گیان کا لمحہ 1990ء بے چہرہ شناسائی 1995ء گمشدہ لمحوں کی تلاش 2003ء اور بند ہونٹوں پہ دھری کہانیاں نے 2007ء میں شائع ہوکر مقبولیت حاصل کی۔اْن کے فن پر اب تک 8 تھیسز اور ایک بار ایم فِل ہوچکا ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ ابھی تک میں نے دو سو کے لگ بھگ افسانے لکھے ہیں۔ میں اکثر اپنے آپ سے سوال کرتی ہوں کہ میں نے افسانے کیوں لکھے اور دل سے جواب آتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کیا کرتی۔ اردو ادب کی ممتاز افسانہ نگار شمع خالد طویل علالت کے بعد دْنیا چھوڑ گئیں۔ اْن کے افسانوں میں زندگی کی شمع ہر رنگ میں جلتی تھی۔خْوب صورت ذہن اور مثبت سوچ، زندگی کی تلخ حقیقتوں کو سمجھنے میں آسانی پیدا کردیتی ہے۔کسی بھی فن سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…