بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ انتخابات کے دوران ہارس ٹریڈنگ کے لیے کرپشن کا پیسہ استعمال ہوا، الیکشن کمیشن کو خاموش تماشائی قرار دیدیا گیا

datetime 3  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے علی حیدر گیلانی کے ووٹ ضائع کرنے والی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثابت ہوگیا ہے کہ سینٹ انتخابات کے دوران ہار س ٹریڈنگ کی جارہی ہے۔ ممبران کی بولیاں لگائی گئیں۔ ضمیر فروشوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر سودے بازی کی۔ اس سارے

عمل کے دوران الیکشن کمیشن کا کردار خاموش تماشائی سے زیادہ کچھ نہیںرہا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران شفاف ضمنی انتخابات کروانے کا واویلا کرتے رہے مگر ڈسکہ انتخاب میں سب نے دیکھ لیا کہ کیسے دھاندلی ہوئی۔ ایسا ہی طرز عمل سینٹ انتخابات کے دوران دیکھنے کو آیا۔ سینٹ انتخابات میں منڈیاں اور بولیاں لگانے والے پورے نظام کے منہ پر سیاہ دھبہ ہیں۔ ان کو تاحیات نا اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خود اعتراف کرچکے ہیں کہ بلوچستان کی سینٹ نشست کے لیے ایک ووٹ کا ریٹ 70کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔ سینٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے بھی لوگوں نے کروڑو ںروپے دینے کے الزمات لگائے ہیں۔ واضح ہوگیا ہے کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی نشست حاصل کرنا عام لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 218(3)کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل میں کرپٹ پریکٹس کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جبکہ آئین کے آرٹیکل 222کے تحت پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ کرپٹ پریکٹس اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکے۔ مگر بد قسمتی سے ہر دور میں دونوں ہی ادارے اپنی رٹ قائم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیے ۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ہم صاف شفاف انتخابات کی بات کرتے ہیں ۔ جب تک ملک میں الیکشن کمیشن مکمل طور پر آزادانہ کام نہیں کرتا اس وقت تک ملک و قوم کو حقیقی معنوںمیں خیر خواہ حکمران میسر نہیں آسکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…