بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نہار منہ بھیگے ہوئے بادام کھانے کے بے شمارفوائد ،جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) بادام میں منرلز، وٹامنز، میگنیشیم، کیلشیم، وٹامن ای بہت زیادہ پایا جاتا ہے جو کہ اس کے مثبت فوائد کی بڑی وجہ ہیں۔ لیکن بادام کی یہی تمام افادیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہےکہ جب آپ بادام کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور اس کو صبح نہار منہ اٹھ کر کھائیں۔ پانی میں بھیگے بادام فوری ہاضمہ کرتے ہیں۔ یہ دل کی شریانوں کی سوجن میں کمی کا باعث بنتے ہیں

بادام میں موجود میگنیز، آئرن اور کاپر کی وجہ سے جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے۔ یہ نزلہ زکام کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ بادام میں موجود میں فاسفورس، میگنیشیم اور کیلشیم ہماری ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ ان میں وافر مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں، جو جسم کے خلیوں کو سکڑنے سے بچاتے ہیں۔ اس میں شامل میگنیشیم دل کی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ہوتا ہے اور صبح سب سے پہلے کھانا دل کو زندہ رکھنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ بادام میں شامل فائبر، چکنائی اور پروٹین جسمانی کیلوریز کو کم کرنے اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے اور بھیگے ہوئے بادام کیونکہ جراثیم سے پاک ہواگرچہ بادام چھوٹی شئے ہے لیکن اس میں صحت کا بھرپور خزانہ بھرا ہوا ہے ۔ اس سے نہ صرف وزن کم ہوتا ہے بلکہ دماغی صحت بہتر ہوتی ۔ اور بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔ماہرین خوراک ہمیشہ ہی مشورہ دیتے ہیں کہ اگر اسے پانی میں بھگو کر کھایا جائے تو زیادہ فائدے مند ہوتے ہیں۔بھیگے ہوئے بادام کئی وجوہ کی بنا پر بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ بادم کے چھلکے میں جو ٹینن ہوتا ہے اس سے غذائیت کم ہوجاتی ہے جب آپ اسے بھگوتے ہیں چھلکا اتر جاتا ہے اور آپ کو بھرپور غذا ئیت فراہم ہوتی ہے۔ یوں نظام ہضم بہتر ہوتا ہے ، وزن کم ہوتا ہے ، دل صحت مندرہتا ہے ۔ اینٹی آکسیڈنٹ کا اچھاذریعہ ہوتا ہے۔کینسر کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔ کسی قسم کا ٹیومر نہیں بنتا ۔ بلڈ گلوکوز کی سطح کم اور بہتر ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ اس میں موجود کیلوریز کی وجہ سے بادام کو نظر انداز کرتے ہیں لیکن آپ کے جسم کو جس قسم کے تیل کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی فراہم کرتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…