جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مسجد حرام میں سماعت و گویائی سے محروم افراد کیلئے  مختلف شعبوں میں زبردست سہولیات فراہم

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

مکہ مکرمہ (این این آئی)سماعت اور گویائی سے محروم طبقہ نہ ہماری طرح بولتا ہے اور نہ ہماری طرح سنتا ہے مگر اللہ رب العزت نے اس طبقے کے انسانوں کو عظیم مہارتوں سے نوازا ہے۔ ان مہارتوں کے ذریعے وہ مخاطب ہوتے ہیں اور مخاطب کرتے ہیں، بات سمجھتے ہیں اور بات سمجھاتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد حرام میں

اس طبقے کے لوگوں کو مطلوب تمام خدمات فراہم کرنے کا بہترین انتظام کیا ہے۔سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے واسطے اہل کار بھرتی کیے گئے ہیں جو ٹکنالوجیکل، ٹیکنیکل، سیکورٹی اور انسانی شعبوں کے حوالے سے اعلی ترین خدمات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذکورہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ حرم مکی کے اندر عبادت کر سکیں۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے مسجد حرام اور مسجد نبوی میں زائرین اور معتمرین کے واسطے بہترین خدمات کی فراہمی کی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔مسجد حرام کی انتظامیہ کی جانب سے ہر نماز کے بعد بصارت ، سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے لیے مخصوص مقامات کی صفائی اور سینی ٹائزیشن کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان افراد کو آب زمزم اور ان کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ساز و سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ ان افراد کے نماز کی جگہاں کو معطر رکھنے کا انتظام بھی ہے۔مزید برآں اس طبقے کے خصوصی مصلے میں اشاروں کی زبان کے ماہر مترجم موجود ہوتے ہیں جو ان کے لیے خطبوں، درس اور فتوں کا ترجمہ کرتے ہیں۔ اسی طرح سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے لیے ایک جگہ مختص کی گئی ہے جہاں وہ اشاروں کی زبان کے ذریعے قرآن کریم کی تلاوت اور حفظ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ جگہ مسجد حرام میں گیٹ نمبر 93 سے ملحق ہے۔حرم مکی میں ان افراد کے لیے اشاروں پر مشتمل بورڈز بھی آویزاں ہیں جو ان کی نقل و حرکت میں مدد گار ہوتے ہیں۔ ان افراد کے درمیان قرآن کی تفسیر معانی القرآن کی سی ڈی بھی تقسیم کی جاتی ہے جو اشاروں کی زبان پر مشتمل ہوتی ہے۔اشاروں کی زبان کے ماہر یحیی اللہیبی 18 برس سے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں اس قابل افتخار خدمت کا موقع ملا۔ اللہیبی کے مطابق مسجد حرام میں اشاروں کی زبان کی خدمات سے دنیا بھر سے آنے والے افراد مستفید ہوتے ہیں جو سماعت سے محروم ہوتے ہیں۔ اللہیبی نے بتایا کہ ایک مترجم کی حیثیت سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ سماعت سے محروم شخص کب میرے اشاروں کو واضح طور پر سمجھ پا رہا ہے۔ بعض مرتبہ خطبوں اور دروس کے دوران سماعت سے محروم افراد فرطِ جذبات میں رونا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اشاروں کے ذریعے پہنچائی گئی بات سمجھ میں آ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…