بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے انسانی  جسم پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟ماہرین نے انتباہ کردیا

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اس موسم میں مونگ پھلی کھانے کا شوق تو اکثر افراد کو ہوتا ہے مگر کیا اس گری کو کھانے کے بعد پانی پینا واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس کے نتیجے کھانسی اور گلے میں خراش ہوسکتی ہے۔ اگرچہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے کئی خیالات گردش کررہے ہیں جن میں سے طبی سائنس نے کسی کوبھی فی الحال ثابت نہیں کیا۔ کیا مونگ پھلی آپ کو موٹا کرتی ہے؟ ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ مونگ پھلی جیسی گریاں قدرتی طور پر خشک ہوتی ہیں تو ان کے کھانے سے پیاس محسوس ہوتی ہے اور اس میں موجود تیل کی موجودگی پانی سے دور رہنے کو بہتر ثابت کرتی ہے۔ اس خیال کے مطابق زیادہ تیل والی غذائیں یا گریاں کھانے کے بعد غذائی نالی میں چربی کا اجتماع ہوسکتا ہے جو کہ گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بنتا ہے، ویسے یہ اب تک ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ ایک اور خیال یہ ہے کہ مونگ پھلی کھانے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے سردیوں میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی پینا اس حرارت کو کم کرتا ہے، مگر حرارت اور ٹھنڈک کا یہ عمل بیک وقت ہونا نزلہ زکام، کھانسی اور نظام تنفس کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے، ویسے کچھ ماہرین تو کسی بھی کھانے کے بعد پانی پینے کو اچھا عمل نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے بدہضمی یا تیزابیت کا امکان بڑھتا ہے، اس لیے کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے۔ روزانہ کچھ مقدار میں یہ گری کھانا ذیابیطس سے بچائے اسی طرح ایک خیال یہ بھی ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا معدے کے مسائل کا باعث بنتا ہے خصوصاً بچوں میں، اکثر اوقات یہ مونگ پھلی سے الرجی کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس پر پانی پینا حالات بدتر بنادیتا ہے۔ ویسے اگر مونگ پھلی کے بعد پانی پینا نقصان دہ ثابت نہیں بھی ہوا تو بھی احتیاطی تدبیر اختیار کرنا کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…