ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی قرضوں میں 24 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد( این این آئی) کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث عالمی قرضوں میں 24 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد عالمی قرضوں کی مجموعی مالیت 281 ہزار ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی جو دنیا بھر کی جی ڈی پی کے 355 فیصد کے مساوی ہے۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی وبا کے

دوران دنیا بھر کے ممالک جو مالی سپورٹ کے پروگرام شروع کیے تھے اس سے عالمی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔دنیا بھر کی کمپنیوں کے قرضوں میں 5 ہزار 400 ارب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے۔ بینکوں کے قرضے 3 ہزار 900 ارب ڈالر جبکہ کنزیومر فنانسنگ 2 ہزار 600 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔سال 2020 میں دنیا بھر کے ممالک کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے مقابلے میں عالمی قرضوں کا تناسب 355 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 2008 اور 2009 کے عالمی مالیاتی بحران میں جی ڈی پی میں قرضوں کی شرح محض 10 سے 15 فیصد ہی بڑھی تھی تاہم کرونا وائرس کے باعث عالمی قرضے ایک سال میں 35 فیصد بڑھ چکے ہیں۔دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی معیشت میں استحکام کے امکانات محدود ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال بھی بیشتر ممالک کرونا وائرس کی عالمی وبا سے پہلے والی صورتحال سے دوچار رہیں گے اور قرضوں کا حصول بھی غیر معمولی رہے گا کیونکہ ابھی معیشتوں کی بحالی میں کافی عرصہ لگے گا۔آئی ایم ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال حکومتوں کے قرضوں میں مزید 10 ہزار ارب ڈالر اضافے کی توقع ہے جس کے بعد دنیا بھر کے ممالک کے حکومتی قرضوں کا حجم 92 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…