بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سپیکر اور الیکشن کمیشن نے گرفتار رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے انکار کردیا گیا

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن ) اسپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے

قید اپوزیشن رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے معذرت کرلی ہے۔پیپلزپارٹی کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کیا گیا تھا، اسپیکر کی جانب سے پیپلز پارٹی کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے پر الیکشن کمیشن نے گرفتار رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈر کا اجراء ہمارا دائرہ اختیار نہیں ہے۔جبکہ اب پی ڈی ایم کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پارلیمانی لیڈر ن لیگ خواجہ آصف، پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور سابق فاٹا سے رکن اسمبلی علی وزیر جیل میں ہیں۔ سینیٹ الیکشن کے لیے 3 مارچ کو قومی اسمبلی ہال میں پولنگ ہو گی اور 2 مارچ کی شام تک زیر حراست اراکین کو اسلام آباد پہنچادیا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستان میں سینیٹ انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک میں سینیٹ الیکشن 3 مارچ کو ہوں گے ، الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ 3 مارچ کو ہو گی ، الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کے لیے شیڈول جاری کرتے ہوئے بتایا کہ

سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی 12 سے 13 فروری تک جمع کروائے جا سکیں گے ، نامزد اْمیدواروں کے نام 14 فروری کو لگائے جائیں گے جس کے بعد سینیٹ انتخابات کے لیے اْمیدواروں کی جانب سے جمع کروائے جانے والے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 15 اور 16 فروری کو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…