پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

اوپن بیلٹ صدارتی آرڈیننس کن صورتوں میں غیر ضروری ہوجائیگا؟قانونی ماہرین نے بتا دیا

datetime 9  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹ انتخابات، صدارتی آرڈیننس دو صورتوں میں غیر ضروری ہوجائیگا۔ سپریم کورٹ نے ایڈوائس نہیں دی یا ، خفیہ بیلٹ کی تائید کی تو آرڈیننس ماضی کا حصہ بن جائیگا۔ روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں کہ سینٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کے حوالے

سے مشروط صدارتی آرڈیننس دو صورتوں میں غیر ضروری ہوجائے گا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے مارچ میں سینیٹ انتخابات سے قبل صدارتی ریفرنس پر اپنی ایڈوائس نہیں دی یا کہا کہ آئین اس طرح کے انتخابات میں خفیہ بیلٹ کا کہتا ہے تو آرڈیننس ماضی کا حصہ بن جائے گا۔ وہ آئندہ سینیٹ انتخابات کے لیے غیر موثر اور قابل عمل نہیں رہے گا۔ لہذا آئندہ سینیٹ انتخابات جیسا کہ 1985 سے ہوتا رہا ہے وہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہی ہوں گے۔ تاہم، اگر سپریم کورٹ یہ کہے کہ اس طرح کا انتخابی عمل آرٹیکل 226 کے دائرہ کار میں نہیں آتا یعنی ایوان بالا میں اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابی عمل پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو آرڈیننس قابل عمل رہے گا اور موجودہ انتخابات کے ساتھ مستقبل پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔ مذکورہ آرٹیکل کے مطابق، آئین کے تحت وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے سوا تمام انتخابات خفیہ بیلیٹ کے ذریعے ہوں گے۔ حکومت نے صدارتی ریفرنس میں موقف اختیار کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین

کے آرٹیکل 226 کے دائرہ کار میں نہیں آتے بلکہ الیکشنز ایکٹ 2017 ہونے چاہئیں لہذا اس کا انعقاد اوپن بیلٹ کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ایک قانونی ماہر کا کہنا تھا کہ یہ آرڈیننس مفروضے کی طرح کا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کا

انعقاد کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس حوالے سے تضاد کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو قومی اسمبلی میں 26 ویں آئینی ترمیم کا اقدام کیا جاتا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین میں ترمیم بالخصوص آرٹیکل 226 میں ترمیم کے

بغیر اوپن بیلٹ کے ذریعے نہیں ہوسکتے۔ جب کہ دوسری جانب وہ الیکشنز ایکٹ کو تبدیل کرتے ہوئے آرڈیننس نافذ کرتی ہے اور آئینی مسئلے کا حل سپریم کورٹ پر چھوڑ دیتی ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت نے بل پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں پیش کیا، جس پر گزشتہ ہفتے اپوزیشن نے سخت تنقید کی۔ اس بل کے پارلیمنٹ سے پاس ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آرڈیننس کا قابل عمل حصہ الیکشنز ایکٹ 2017 میں دو شقیں شامل کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…