پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

ڈینئل پرل کیس تفتیشی افسران کی جانب سے وہ سنگین غفلتیں جو ملزمان کی رہائی کا سبب بن گئیں ، اہم انکشافات

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈینئل پرل کیس کے گرفتار ملزمان کو سپریم کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، کیس کئی جید پولیس افسران کے ہاتھوں تفتیش کے مراحل سے گزرتا رہا اور کئی تفتیشی افسران کے باعث تاریخی اور سنگین غفلتیں ہوئیں جس سے ملزمان اعلیٰ عدالت سے رہا ہوگئے۔

روزنامہ جنگ میں طلحہ ہاشمی کی شائع خبر کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اعلیٰ حکام نے بتایا کہ تفتیش کے دوران سنگین غفلتیں برتی گئی ہیں، سب سے سنگین غفلت یہ تھی کہ ڈینئیل پرل کی لاش برآمدگی کو ہی اس مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا جو ڈینئیل پرل کے اغوا کا تھا، مقدمے کے اندراج میں غیر معمولی 11 روز کی تاخیر کی گئی، استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ شریک ملزمان سلمان ثاقب اور فہد نسیم نے رضاکارانہ طور پراقبال جرم کیا تھا، پراسیکیوشن یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ عمر احمد شیخ کی جانب سے بھیجی گئی ای میل اصلی تھی، ملزمان کی شناخت پریڈ قانون کے مطابق نہیں کروائی جاسکی اور نجی گواہان نمبر 1 اور 6نے ملزمان کا حلیہ نہیں بتایا، استغاثہ اس ہائی پروفائل کیس میں سازش کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، استغاثہ نے نجی گواہ نمبر 10غلام اکبر کو لکھاوٹ کے ماہر کی حیثیت سے پیش کیا جس نے اپنے بیان میں اس سے انکار کیا کہ ان کے پاس دستی تحریر کے ماہر

سے متعلق کوئی ڈگری نہیں ہے، موجودہ پولیس قیادت یہ سمجھتی ہے تفتیش میں یہ وہ سنگین غلطیاں ہیں جن کے باعث ان ملزمان کو سپریم کورٹ نے رہا کیا، اس کیس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی حراست میں موجوخالد شیخ محمد نے 2007 میں ملٹری کورٹ میں ڈینئیل پرل کو مارنے  کا اعتراف کیا تھا، خالد شیخ محمد کو امریکا میں ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا ہے اور اسے یکم مارچ 2003 کو امریکا اور پاکستان کے حساس اداروں نے راولپنڈی سے گرفتار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…