منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ڈینئل پرل کیس تفتیشی افسران کی جانب سے وہ سنگین غفلتیں جو ملزمان کی رہائی کا سبب بن گئیں ، اہم انکشافات

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈینئل پرل کیس کے گرفتار ملزمان کو سپریم کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، کیس کئی جید پولیس افسران کے ہاتھوں تفتیش کے مراحل سے گزرتا رہا اور کئی تفتیشی افسران کے باعث تاریخی اور سنگین غفلتیں ہوئیں جس سے ملزمان اعلیٰ عدالت سے رہا ہوگئے۔

روزنامہ جنگ میں طلحہ ہاشمی کی شائع خبر کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اعلیٰ حکام نے بتایا کہ تفتیش کے دوران سنگین غفلتیں برتی گئی ہیں، سب سے سنگین غفلت یہ تھی کہ ڈینئیل پرل کی لاش برآمدگی کو ہی اس مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا جو ڈینئیل پرل کے اغوا کا تھا، مقدمے کے اندراج میں غیر معمولی 11 روز کی تاخیر کی گئی، استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ شریک ملزمان سلمان ثاقب اور فہد نسیم نے رضاکارانہ طور پراقبال جرم کیا تھا، پراسیکیوشن یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ عمر احمد شیخ کی جانب سے بھیجی گئی ای میل اصلی تھی، ملزمان کی شناخت پریڈ قانون کے مطابق نہیں کروائی جاسکی اور نجی گواہان نمبر 1 اور 6نے ملزمان کا حلیہ نہیں بتایا، استغاثہ اس ہائی پروفائل کیس میں سازش کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، استغاثہ نے نجی گواہ نمبر 10غلام اکبر کو لکھاوٹ کے ماہر کی حیثیت سے پیش کیا جس نے اپنے بیان میں اس سے انکار کیا کہ ان کے پاس دستی تحریر کے ماہر

سے متعلق کوئی ڈگری نہیں ہے، موجودہ پولیس قیادت یہ سمجھتی ہے تفتیش میں یہ وہ سنگین غلطیاں ہیں جن کے باعث ان ملزمان کو سپریم کورٹ نے رہا کیا، اس کیس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی حراست میں موجوخالد شیخ محمد نے 2007 میں ملٹری کورٹ میں ڈینئیل پرل کو مارنے  کا اعتراف کیا تھا، خالد شیخ محمد کو امریکا میں ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا ہے اور اسے یکم مارچ 2003 کو امریکا اور پاکستان کے حساس اداروں نے راولپنڈی سے گرفتار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…