جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نے تنخواہیں واپس کرنے کا فیصلہ مولانا طارق جمیل کی مشاورت سے کیا

datetime 10  جولائی  2015 |

اسلا م آباد (اپنے رپورٹر سے)تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھرنوں کی وجہ سے قومی اسمبلی سے غیر حاضری کے دنوں کی و صول کی جانے والی تنخواہیں واپس کرنے کا فیصلہ عالم دین مولاناطارق جمیل کی مشاورت کے بعد کیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے عالم دین مولانا طارق جمیل کے ا عزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر ملاقات میں عمران خان نے غیر حاضری کے دنوں کی لی گئی تنخواہ پر مولانا طارق جمیل سے مشاورت کی ،عمران خان نے کہا کہ دھرنوں کے دوران تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی عوامی فورم پر کسی مسائل پر آواز اٹھائی لیکن اس کے باوجود قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تمام اراکین اسمبلی کو فی کس 8,8 لاکھ روپے تنخواہیں جاری کر دی ہیں،کیا یہ تنخواہ لینا ٹھیک ہے یا نہیں ؟کیا تحریک انصاف کے اراکین یہ تنخواہیں شوکت خانم ہسپتال میں جمع کرا سکتے ہیںجس پر عالم دین مولانا طارق جمیل نے تنخواہیں واپس حکومتی خزانے میں جمع کرانے کا مشورہ دیاہے۔واضح رہے کہ عمران خان نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے تنخواہیں لینے کے بعد کہا تھا کہ ہم نے تنخواہیں اس لئے لی ہیں
مزیدپڑھیے :داعش نے نماز عید پرپابندی لگادی

کیونکہ یہ تنخواہیں حکومت ہڑپ کر جائے گی اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین قومی اسمبلی دھرنوں کے دوران لی گئی تنخواہیں شوکت خانم ہسپتال میں جمع کرائیں گے ،اس بیان کے بعد عمران خان سیاسی ومذہبی جماعتوں اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ آیا غیر حاضری کے دوران لی گئی تنخواہ حرام ہے تو کیا شوکت خام ہسپتال کو دینے سے حلال ہو جائے گی ،اس تنقید کی وجہ سے عمران خان شدید پریشانی میں مبتلا تھے جس کے بعد عمران خان نے مولانا طارق جمیل سے مشاورت کے بعد تحریک انصاف کے اراکین کو تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…