منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کس معروف صحافی کی امریکہ اور لندن میں کروڑوں ڈالرز کی جائیدادیں ہیں؟ ہارون رشید کا حیران کن انکشاف

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جس میں نیشنل ٹرانسمیشن سسٹم ہے ،یعنی پورا ملک ایک ہی سسٹم میں ہے ، اس میں ایک خود کار نظام ہوتا ہے ،جیسے گھر میں بجلی چلی جاتی ہے تو مین سوئچ آف ہوجاتا ہے تاکہ بجلی آنے کی صورت میں شارکٹ سرکٹ سے آگ نہ لگے،

واپڈا کا آئیڈیا غلام اسحاق خان امریکہ سے لائے تھے ۔انہوں نے کہا اب مسئلہ یہ ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہیں اور اس کی نوعیت بد ل گئی ہے ،اس کے اوپر ایک ادارہ این ٹی ڈی سی ہے ،اس کے سربراہ رفعت خواجہ ہیں،وہ پی ایچ ڈی اور اچھے آدمی ہیں لیکن فیلڈ میں انہوں نے کبھی کام نہیں کیا،یہ ان کی زیادتی نہیں بلکہ لگانے والوں کی زیادتی ہے ،بجلی کا مسئلہ گدو میں پیدا ہوا،دھند میں شارٹ سرکٹ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،وہاں پر مینٹی نینس ٹھیک نہیں کی جارہی،ہر جگہ پر گورننس اچھی نہیں ہورہی۔براڈ شیٹ کمپنی کے چیف کیوے ماسوی کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ نوازشریف جھوٹ نہیں بولتے بلکہ جب بولتے ہیں تو سرا سر جھوٹ بولتے ہیں،براڈ شیٹ ایک کمپنی ہے جو تحقیقات اور ریسرچ کرتی ہے ،مشرف نے کہا کہ یہ آپ کو ٹاسک دیتے ہیں، ہم اس کی فیس دینگے ،جو سیاستدانوں کی غیر ملکی جائیدادیں ہیں ان کا پتہ چلا دیں،کمپنی نے کام شروع کردیا،جب وہ کام کررہے تھے تو ایک دن مشرف نے کہا کہ اس کام کو بند کردو کیونکہ این آراو ہوگیا تھا،انہوں نے ایک معاہدہ کیا ہوا تھا ، اب اسے توڑ تو نہیں سکتے ،ان کے جتنے پیسے اس وقت بنتے تھے ، ان کو دے دیتے ،مشرف تو چلے گئے مگر اب کمپنی کی فیس تو ادا کرنی تھی۔انہوں نے کہا عمران خان کے آگے ہمالیہ جیسی ایک دیوار کھڑی ہے ، وہ نوازشریف اور زرداری نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجا،کچھ سازشی ہیں جنہوں نے بھیجا ہے ،مجھے ایک طاقتور آدمی نے بتایا کہ شریف خاندان کی تین سو جائیدادیں ہیں۔یہ تین سو نہیں ہیں صرف ، زرداری صاحب کی کتنی ہیں ، پی ٹي آئی کے بعد لیڈروں کی کتنی ہیں ، ایک اخبار کے47کروڑ روپے لندن کے ایک بینک میں پڑے ہیں ، دبئی میں کئی اخبار نویسوں کی جائیدادیں ہیں ، ایک اخبار نویس کی واشنگٹن میں اتنی جائیداد ہے ، اس پر ایک کروڑ پچیس لاکھ کا 2008میں نوٹس آیا تھا ، اس کو زرداری اور نواز شریف دونوں نے پروٹیکٹ کیا ، اس پر نواز شریف اور زرداری دونوں نے مہربانیاں کیں ، پھر دونوں نے ملک کر اسے بہت بڑا عہد دیا ، اب پتہ چلا ہے کہ اس کی لندن میں بھی جائیداد یں ہیں ، وہ اخبار نویسوں سے کہتا ہے کہ ایک فوج کی کبھی حمایت نہ کروکبھی اسلام کا نام نہ لو ایک دو قومی نظریے کی بات نہ کرو ۔انہوں نے کہا خان صاحب کو کمپنی سے مذاکرات کرنے چاہئیں،ان سے یہ بھی گارنٹی لے لیں کہ کم ازکم سو دو سو ارب روپے کی جائیدادیں ریکور ہونی چاہئیں،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سے زیادہ کی ہوجائینگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…