پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے اپنی ہی حکومت کے اہم فیصلے کی مخالفت کر دی

datetime 10  جنوری‬‮  2021 |

لاہور(آن لائن)پی ٹی آئی رہنما حامد خان نے سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کی مخالفت کردی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہاہے کہ آئین کی شقوں کے تحت اوپن بیلٹنگ نہیں ہو سکتی،ملک کی کوئی بھی عدالت اوپن بیلٹنگ کا حکم نہیں دی سکتی، آئین کی شقیں خفیہ رائے شماری پر بہت واضح ہیں، سینیٹ کے انتخابات تناسب کے ساتھ ہوتے ہیں ،یہ ممکن نہیں کہ

خفیہ رائے شماری کے بغیر کروائے جا سکیں۔اس طرح تحریک انصاف کے رہنما نے اپنی ہی حکومت کی مخالفت کر دی، دوسری جانب پنجاب و خیبرپختونخواہ حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی حمایت کردی ہے۔ دونوں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں صدارتی ریفرنس کیس میں جواب جمع کروا دیا گیا ہے۔اپنے جواب میں کے پی حکومت نیعدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ پارلیمان اور حکومت کو سینیٹ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کی اجازت دی جائے۔اوپن بیلٹ سے سینیٹ انتخابات کیلئے قانون میں ترمیم لازمی ہوگی،شفاف انتخابات ہی جمہوریت کی بنیاد ہیں،اپنی جماعت کیخلاف ووٹ دینا بے وفائی ہے،خفیہ ووٹنگ کا استعمال ماضی میں انتخابات کی روح کیخلاف ہوا،ماضی میں بھی سینیٹ انتخابات پر کرپشن کے الزامات لگ چکے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں جمع کراے گئے جواب میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اراکین اسمبلی اپنے ذاتی مفاد کیلئے پارٹی ڈسپلن کے خلاف ووٹ دیتے ہیں،اراکین اسمبلی کے اس اقدام سے جمہوریت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے،اراکین اسمبلیوں کا انتخاب عوام کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے،منتخب اراکین سینیٹرز کا انتخاب کرتے ہیں،منتخب ارکان اسمبلی کے پاس خفیہ ووٹنگ کا حق مانگنے کا کوئی جواز نہیں،پارٹی پالیسی کی مخالفت کرنے والے اراکین استعفے دے سکتے ہیں،ووٹوں کو فروخت کرنے سے بہتر استفعی دینا ہے،سینیٹ کے الیکشن کا طریقہ کار دیگر انتخابات سے مختلف ہے،سینیٹ انتخابات الیکشن ایکٹ کے تحت ہوتا ہے،صدر، چیئرمین سینیٹ، وزیراعظم، وزرائے اعلی، اسپیکر کا الیکشن آئین کے تحت ہوتا ہے،آئین میں سینیٹ کے الیکشن سے متعلق کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…