منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

اگر میری جان کو خطرہ ہوا یا مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا، حامد میر کئی برسوں بعد محترمہ کے بولے گئے الفاظ سامنے لے آئے

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ محترمہ بے نظیر شہید بھٹو کی شہادت کو کئی برس گزر چکے ہیں ،لیکن آج بھی ایک بڑی لیڈر کے طور پر ، ایک بڑی بہن کےطور پر اور ایک ماں کے طور ان کے باتیں بار بار ہمیں ان کی یاد دلاتی ہیں ، وہ ایک بہادر لیڈر تھیں اگر چاہتی تو دہشت گردوں کے سامنے سرینڈر کر کے اپنی جان بچا سکتی تھیں لیکن انہوں نے

سرینڈر کی بجائے دہشت گردوں کی آنکھیں ڈال کر انہیں للکارا اور اپنی جان قربان کر دی ،حامد میر نے محترمہ کے ساتھ آخری ملاقات کے ھوالے سے بتایا کہ اسلام آباد میں اس ملاقات میں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر میری جان کو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور اگر مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو یاد رکھنا اس کا ذمہ دار جنرل پرویز مشرف ہو گا ،اور آپ نے اس کو بے نقاب کرنا ہے ۔ جبکہ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ بھی احتیاط کریں کیونکہ چارسدہ میں بھی آپ پر حملہ ہوا آپ اور بھی پبلک جگہوں پر جاتیں ہیںتو بے نظیر نے مجھے جواب دیا کہ اگر میں نے احتیاط کے نام پر جلسے جلوس بند دکر دیے تو پاکستان میں جلسے جلسوس کا کلچر ہی ختم ہو جائے گا ، میں یہ ہرگز نہیں چاہتی کہ دہشتگردوں کےسامنے سرینڈر کریں ، مجھے ڈرایا جارہا ہے کہا جارہا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، مجھے پر حملے بھی کروائے جارہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر جلسے جلوس بند کر دیے تو اس طرح تو دہشتگرد جیت جائیں گے ، میں جلسے جلوس بند نہیں کروں گی ۔ سینئر صحافی حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ محترمہ نے بتایا کہ پرویز مشرف اور اس کے حواری اگر یہ چاہتے ہیں کہ میں پاکستان سے واپس چلی جائوں ،دوبارہ ملک چھوڑ دوں ،یہ مجھے کہتے ہیں تمہاری جان کو خطرہ ہے اس کے باوجود میں ملک نہیں چھوڑوں گی ، میں ملک میں رہ کر اپنی جان قربان کر دوں گی ، بے نظیر کے الفاظ یہ تھے کہ میرا ملک خطرے میں ہے ، جن دہشتگردوں کی وجہ سے میرا ملک خطرے میں ہے ، میں ان سے لڑنے اور اپنی جان قربان کرنے آئی ہوں ۔ اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد محترمہ نے دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جان قربان کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…