بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

اگر میری جان کو خطرہ ہوا یا مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا، حامد میر کئی برسوں بعد محترمہ کے بولے گئے الفاظ سامنے لے آئے

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ محترمہ بے نظیر شہید بھٹو کی شہادت کو کئی برس گزر چکے ہیں ،لیکن آج بھی ایک بڑی لیڈر کے طور پر ، ایک بڑی بہن کےطور پر اور ایک ماں کے طور ان کے باتیں بار بار ہمیں ان کی یاد دلاتی ہیں ، وہ ایک بہادر لیڈر تھیں اگر چاہتی تو دہشت گردوں کے سامنے سرینڈر کر کے اپنی جان بچا سکتی تھیں لیکن انہوں نے

سرینڈر کی بجائے دہشت گردوں کی آنکھیں ڈال کر انہیں للکارا اور اپنی جان قربان کر دی ،حامد میر نے محترمہ کے ساتھ آخری ملاقات کے ھوالے سے بتایا کہ اسلام آباد میں اس ملاقات میں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر میری جان کو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور اگر مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو یاد رکھنا اس کا ذمہ دار جنرل پرویز مشرف ہو گا ،اور آپ نے اس کو بے نقاب کرنا ہے ۔ جبکہ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ بھی احتیاط کریں کیونکہ چارسدہ میں بھی آپ پر حملہ ہوا آپ اور بھی پبلک جگہوں پر جاتیں ہیںتو بے نظیر نے مجھے جواب دیا کہ اگر میں نے احتیاط کے نام پر جلسے جلوس بند دکر دیے تو پاکستان میں جلسے جلسوس کا کلچر ہی ختم ہو جائے گا ، میں یہ ہرگز نہیں چاہتی کہ دہشتگردوں کےسامنے سرینڈر کریں ، مجھے ڈرایا جارہا ہے کہا جارہا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، مجھے پر حملے بھی کروائے جارہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر جلسے جلوس بند کر دیے تو اس طرح تو دہشتگرد جیت جائیں گے ، میں جلسے جلوس بند نہیں کروں گی ۔ سینئر صحافی حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ محترمہ نے بتایا کہ پرویز مشرف اور اس کے حواری اگر یہ چاہتے ہیں کہ میں پاکستان سے واپس چلی جائوں ،دوبارہ ملک چھوڑ دوں ،یہ مجھے کہتے ہیں تمہاری جان کو خطرہ ہے اس کے باوجود میں ملک نہیں چھوڑوں گی ، میں ملک میں رہ کر اپنی جان قربان کر دوں گی ، بے نظیر کے الفاظ یہ تھے کہ میرا ملک خطرے میں ہے ، جن دہشتگردوں کی وجہ سے میرا ملک خطرے میں ہے ، میں ان سے لڑنے اور اپنی جان قربان کرنے آئی ہوں ۔ اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد محترمہ نے دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جان قربان کر دی ۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…