جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی موجودگی میں امن و خوشحالی نہیں آ سکتی، ان کے خطرناک مقصد سے آگاہ کر دیا گیا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی موجودگی میں دنیا میں کبھی امن اور خوشحالی نہیں آ سکتی نہ بھوک اور جہالت کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان اداروں کا ظاہری مقصد غریب

ممالک کی امداد ہے جبکہ حقیقی مقصدعالمی سطح پر مغربی ممالک کے مفادات کی تکمیل اور انکی اجارہ داری کو طول دینا ہے جس کے لئے غریب ممالک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایف اے ٹی ایف مغربی بلاک کے بنائے ہوئے تمام ادارے غربت میں اضافہ کر رہے ہیں۔1960 سے اب تک ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی فی کس آمدنی کے فرق میں 400فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس وقت تک بڑھتا رہے گا جب تک یہ ادارے اپنی نو آبادیاتی پالیسیاں جاری رکھیں گے جس نے عالمی تجارتی نظام کو غیر متوازن کر رکھا ہے۔ان اداروں میں جمہوریت کا نام و نشان نہیں ہے اور انھیں ڈکٹیٹرشپ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سربراہوں کو الیکٹ نہیں سلیکٹ کیا جاتا ہے اور ووٹ کا نظام بھی ایسا بنایا گیا ہے جو مغربی ممالک کے حق میں جاتا ہے جس سے دنیا کے مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔دنیا کی 85 فیصد آبادی جو مغربی ممالک پر مشتمل نہیں ہے کوووٹنگ کے پراسس میں بھی کھڈے لائن لگایا ہوا ہے۔اگر امیر اور غریب ممالک کے ووٹوں کا جائزہ لیا جائے توان اداروں میں ایک برطانوی ووٹ بنگلہ دیش کے 41 ووٹوں کے برابر ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق برطانیہ نے 1765 سے لے کر 1938 تک ہندوستان سے 45 کھرب ڈالر

اپنے پاس منتقل کئے جو اسکے آج کے جی ڈی پی سے17گنا زیادہ ہیں۔ اس سے برطانیہ نے ترقی کی جبکہ ہندوستان کے رہنے والوں کی آمدنی نصف سے بھی کم رہ گئی جبکہ غریب ممالک جن کے خام مال اور مزدوروں کے بغیر امیر ممالک کا نظام نہیں چل سکتا کے ساتھ آج بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…