پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ڈیٹا محفوظ کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا آلہ ایجاد

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

آسٹن(این این آئی) ٹیکساس یونیورسٹی کے ماہرین نے ڈیٹا محفوظ کرنے والا، دنیا کا سب سے چھوٹا آلہ ایجاد کرلیا ہے جو دو جہتی (ٹوڈی) مٹیریئل سے بنایا گیا ہے اور اس کی جسامت ایک نینومیٹر کے برابر ہے۔ سائنسدانوں نے اسے ‘ایٹم رِسٹر’ کا نام دیا ہے، یعنی یہ ایک ایسا

ٹرانسسٹر ہے جو ایٹمی پیمانے پر ڈیٹا محفوظ کرتا ہے۔یہ آلہ واحد (سنگل) ایٹموں کی حرکت سے کام کرتا ہے اور اس کی بدولت نہایت چھوٹے میموری آلات میں معلومات اور ڈیٹا کا ایک انبار رکھا جاسکے گا۔یہ آلہ برقیات کے بالکل نئے ابھرتے ہوئے شعبے ”میمرسٹر” سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں مزاحمتی سوئچ کے درمیان ڈیٹا رکھا جاتا ہے۔ جب ایک خاص مادے پر خاص وولٹیج دیا جاتا ہے تو اس کی برقی مزاحمت تبدیل ہوکر یا تو کمزور ہوجاتی ہے یا پھر مضبوط ہوجاتی ہے۔ اس مظہر کو ڈیٹا لکھنے اور مٹانے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے؛ اور آخر میں اسی مزاحمتی عمل کو محفوظ شدہ ڈیٹا پڑھنے کیلیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔جب نینومیٹر پیمانے پر بنائے گئے سوراخوں میں سے ایک ایٹم باہر یا اندر جاتا ہے تو مٹیریئل کی موصلیت (کنڈکٹیوویٹی) بدلتی ہے۔ اس طرح سائنسی لحاظ سے ایٹمی سطح پر ڈیٹا کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کیلیے مولبڈینم ڈائی سلفائیڈ کو استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن عین یہی عمل بہت سے مادوں پر آزما کر

انہیں بھی ”ایٹم رِسٹر” بنایا جاسکتا ہے۔اس طرح یہ دنیا کی سب سے چھوٹی میموری ہے جو ایٹمی پیمانے پر بنائی گئی ہے۔ یہ ”ایٹم رِسٹر” بنانے کیلیے ماہرین نے مولبڈینم ڈائی سلفائیڈ کو ایک نینومیٹر لمبے اور ایک نینومیٹر چوڑے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جن کی موٹائی صرف

ایک ایٹم جتنی تھی۔ اس طرح نظری طور پر ایک مربع سینٹی میٹر کے ٹکڑے پر 25 ٹیرابائٹ جتنا ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے، جو موجودہ فلیش میموری میں فی مربع سینٹی میٹر گنجائش سے بھی 100 گنا زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایٹمی سطح پر اسٹوریج کیلیے توانائی بھی بہت

کم درکار ہوتی ہے۔یہ ایجاد جس کی تفصیلات اوپن ایکسیس ریسرچ جرنل ”نیچر نینو ٹیکنالوجی” کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں، مستقبل میں نیورومارفک کمپیوٹنگ، ریڈیو فریکوئنسی کمیونی کیشن اور بہت چھوٹی جگہ پر ڈیٹا رکھنے جیسے کاموں میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…