اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

جیل حکام نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی بڑی خواہش پوری کردی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن )لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کی کیمپ جیل میں فیملی سے پہلی ملاقات کروا دی گئی، جیل عملے کی موجودگی میں ملاقات 20 منٹ جاری رہی۔نجی ٹی وی کے مطابق عابد ملہی کی فیملی سے ملاقات کی درخواست پر عملدرآمدکروادیا گیا ہے۔ عابد ملہی سے بیوی بیٹی اور والدہ کی کیمپ جیل میں

ملاقات کروائی گئی ہے۔ملزم نےشناخت پریڈ کے  دوران بیٹی اور بیوی اور ساتھی ملزم سے ملاقات کی اعلیٰ حکام سے درخواست کی تھی جس پر جیل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے عابد ملہی سے بیٹی ، بیوی اور والدہ کوملاقات کی اجازت دی گئی جبکہ ساتھی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عابد ملہی سی کلاس جیل میں عملے کی موجودگی میں ملاقات کروائی گئی۔ عابد ملہی کیمپ جیل لاہور کی چکی میں تنہا بند ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ڈرا سہما رہا۔لگتا تھا کہ ہر فرد پولیس والا ہے اور سے پہچانتے ہی مار دے گا۔ملزم نے مزید کہا کہ گرفتاری کے بعد پہلی بار اچھی طرح سویا ہوں اور ایک ماہ بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے اور سکھ کی نیند سویا ہوں۔عابد نے مزید کہا کہ اس سے قبل مسلسل بے چین اور خوف زدہ رہا۔گرفتاری سے قبل والدین سے ملنا چاہتا تھا ۔یہ خواہش پوری ہو گئی۔گرفتاری کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے لگا ہوں۔جب کہ عدالت جو بھی سزا دے گی قبول کروں گا۔ ملزم کو شناخت پریڈ ہونے تک فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہو گی۔واضح رہے کہ لاہور موٹر وے پر خاتون کی آبرو ریزی کے مرتکب مرکزی ملزم عابد ملہی کو واقعے کے 33 دن بعد دو روز قبل فیصل آباد کے علاقے مانگامنڈی سے گرفتار کیاگیا تھا۔عابد کی گرفتاری سے متعلق مختلف قسم کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو ہم نے اپنی انتھک محنت سے گرفتار کیا ہے جب کہ ملزم کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا۔عابد ملہی کے والد کا بتانا ہے کہبیٹے نے جب رابطہ کیا تو اسے گھر آنے کیلئے کہا۔ جب بیٹا گھر آیا تو وہاں موجود پولیس اہلکار بے خبر موبائل پر ویڈیو دیکھنے میں مصروف تھے۔گھر آنے پر بیٹے کو تبدیل کرنے کیلئے کپڑے اور

چادر دی اور اسے ایک طرف لے گیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر پکڑنے کی کوشش کیتو وہ بھاگ جائے گا۔ اس پر عابد نے کہا کہ ابا جی میں اس لیے گرفتاری نہیں دیتا تھا کیوںکہ یہ مجھے مار دیتے۔ صرف آپ کی یقین دہانی کروانے پر گرفتاری دینے کیلئے گھر آیا۔ اس موقع پر علاقے کا بااثر شخص خالد بٹ گھر آ گیا اور پھر کچھ دیر بعد اپنی گاڑی میں بٹھا کر عابد کو پولیس کے پاس گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…