بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں جرائم کی سرپرستی کرنے والے پولیس افسران کے نام جاری

datetime 6  جولائی  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)اسپیشل برانچ نے شہرقائد میں جرائم کی سرپرستی کرنے والے پولیس افسران کی فہرست جاری کردی ہے اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق 130اہلکار ہفتہ وار لاکھوں روپے وصولی لیتے ہیںجبکہ وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔اسپیشل برانچ نے منشیات فروشوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے سمیت دیگر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کی فہرست جاری کردی ہے۔رپورٹ میں منشیات کے اڈوں سے پیسے لینے والے اہلکاروں کی تعداد 130 بتائی گئی ہے۔شہر کے تمام ہی علاقوں سے پولیس اہلکار منشیات فروشوں سے بھتہ لیتے ہیں۔بھتہ جمع کرنے والوں میں زیادہ تر اہلکار کانسٹیبل رینک کے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل افتخارگلشن معمار اور اخلاق گلبہار کے اڈوں سے پیسے جمع کرتے ہیں جبکہ کانسٹیبل یوسف پاک کالونی اور اسلم پیرآباد میں منشیات کے اڈوں سے رقم جمع کرتے ہیں۔اے ایس آئی ظہور ناظم آباد اور امجد اقبال سپرمارکیٹ میں منشیات فروشوں سے رشوت لیتے ہیں۔اے آیس آئی طارق بھٹی شریف آباد اور کانسٹیبل نورمحمد کھوکھرا پار سے بیٹ جمع کرتا ہے۔کانسٹیبل وسیم قریشی عزیزآباد میں منشیات کے اڈوں سے پیسے لیتا ہے۔ کانسٹیبل مقصود خواجہ اجمیر نگری سے منشیات فروشوں سے بھتہ لیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق طارق اور اختر پی آئی بی اور اصغر عزیز بھٹی تھانے کی حدود سے منشیات فروشوں سے پیشے لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق فہرست میں شامل پولیس اہلکار ہفتہ وار لاکھوں روپے بھتہ وصول کرتے ہیں جو اعلی افسران تک پہنچایا جاتا ہے۔دوسری جانب وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے اسپیشل برانچ کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی جو 5 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…