اسلام آباد (آن لائن) پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) اتھارٹی کے قیام کا بل 2020 اور سینیٹ شفاف انتخابات اور دہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کر کردئیے گئے۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے دونوں بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے جبکہ بل کی کاپیاں نہ دینے پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں
احتجاج کیا۔ سی پیک اتھارٹی بل پر ڈپٹی سپیکر نے خواجہ آصف کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔جمعرا ت کوپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں سینیٹ شفاف انتخابات اور دہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت سے متعلق آئین میں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔بل وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔بابر اعوان نے کہا 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت سینیٹ انتخابات،خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔بل کے تحت آبادی کی بجائے رجسٹر شدہ ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندی ہو گی۔ بابر اعوان نے کہا سمندر پار پاکستانیوں کو حق رائے دہی اور انتخابات میں دہری شہریت والوں کی مشروط شمولیت ہو سکے گی۔ 26وین آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 59۔ 63 اور 226 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ا جلاس کے دوران سی پیک اتھارٹی کے قیام کا بل بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔بل کے متن میں کہاگیا ہے کہ اتھارٹی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تمام سرگرمیوں سے متعلقہ بلا رکاوٹ اطلاق کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔ اتھارٹی راہداری سے متعلق آسانی،ربط دہی پیدا ، نافذ کرنے کی نگرانی اور جانچ کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔ اتھارٹی کی منصوبہ بندی کا کام منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے اختیار کردہ موجودہ انتظامات کی پیر وی میں ہو گا۔ سی پیک
سے متعلقہ سرگرمیوں کے اقدامات بدستور اس ایکٹ کے فعال ہونے تک جاری رہیں گے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی اپنے امور کی انجام دہی کے لیے مربوط معلومات طلب کر سکتی ہے۔ کسی بھی دفتر، اتھارٹی یا ایجنسی صوبائی یا مقامی حکومت کے تحت کام رہی ہو سے سہولت حاصل کر سکتی ہے۔متعلقہ وزارتوں، دفاتر اور محکموں کے ساتھ فریم ورک کو آسان بنانے کا معاملہ
اٹھا سکتی ہے۔ سی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس کا انتظام کرے گی۔بل کے مطابق اتھارٹی چیئرمین، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آپریشنز یا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریسرچ اور 6 دیگر اراکین پر مشتمل ہو گی۔ چیئرپرسن اتھارٹی کا کنوینیر اور سربراہ ہو گا جس کا تقرر حکومت 4 سال کے لیے کرے گی۔ چیئرمین کو مزید 4 سال کے لیے دوبارہ مقرر بھی کیا جا سکے گا۔
اتھارٹی کے اراکین کا تقرر وزیراعظم کی جانب سے 4 سال کی مدت کے لیے ہو گا۔ اراکین بھی دوبارہ تقرری کے اہل ہوں گے۔ چیئرپرسن اور اراکین کی شرائط و ضوابط کا تعین وزیراعظم کرے گا۔ چیئرپرسن سی پیک کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں تشکیل کر سکے گا۔ اتھارٹی کا اجلاس بلا سکے گا۔ اتھارٹی ہر مالی سال میں سہہ ماہی بنیادوں پر اجلاس کرے گی۔ کورم کل اراکین کا دو تہائی ہو گا۔ مفاد
کا ٹکراؤ رکھنے والا کوئی بھی شخص چیئرپرسن رکن اور ای ڈی نہیں بن سکے گا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کاروباری کونسل بھی قائم کی جائے گی۔ سی پیک فنڈ بھی وزارت خزانہ کی منظوری سے قائم ہو گا۔ اتھارٹی کے حسابات کی جانچ پڑتال آڈیٹر جنرل کرے گا۔ اتھارٹی کے ملازمین سول ملازمین تصور نہیں ہوں گے۔ اتھارٹی کے چیئرپرسن اور اراکین کے خلاف قانونی کاروائی نہیں
کی جا سکے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے دونوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے۔اپوزیشن کی جانب سے بل کی کاپیاں نہ دینے پراحتجاج کیا گیا۔مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے سی پیک اتھارٹی بل پر بولنے کی کوشش کی لیکن سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی۔قومی اسمبلی اجلاس میں تعمیر نو کمپنیز ترمیمی آرڈیننس میں مزید 120 دن کی توسیع کی قرارداد بھی کثرت رائے
سے منظور کرلی گئی۔ آرڈیننسز میں توسیع کی قراردادوں کی منظوری پر جے یو آئی کی شاہدہ اختر نے احتجاج کیا۔ بابر اعوان نے کہا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ آرڈیننس میں توسیع کرسکتی ہے، اگر آج آرڈیننس میں توسیع نہ ہوئی تو
ان کی مدت ختم ہوجائے گی۔اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ایوان کو مفلوج کیا جا رہا ہے، ایوان کا کام کسی آرڈیننس فیکٹری سے لیا جاتا اور ایوان کو شور شرابے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔