منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

حکومت بیسیاکھیوں پر کھڑی ہے بیساکھی ہٹے گی توحکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا ،سی پیک کا مستقبل تباہ، مولانا فضل الرحمن کا نئے انتخابات کا مطالبہ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2020 |

ملتان( آن لائن ) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،حکومت بیسیاکھیوں پر کھڑی ہے جونہی بیساکھی ہٹے گی حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا ، کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا عمران خان نے دیا ۔ پی ڈی ایم کا ہر جلسہ دوسرے جلسے کا ریکارڈ توڑے گا، ہم مطمئن ہیں کہ تحریک کامیابی سے آگے بڑھے گی۔ملتان میں

میڈیا سے بات کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں پی ڈی ایم جلسے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، عوام نے حکومت سے بیزاری کا اظہار کیا ہے، ہم مطمئن ہیں کہ تحریک کامیابی سے آگے بڑھے گی، ہمارا ہر جلسہ دوسرے جلسے کا ریکارڈ توڑے گا۔ایک سوال پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا، سیاست میں مصلحتیں آتی رہتی ہیں، آپ غالبا کووڈ 19 کی بات کررہے ہیں، ہم تو کووڈ 18 سے نبرد آزما ہیں اور یہ جنگ جاری رہے گی، پاکستان میں حکومت نہیں، جو ہے وہ بیساکھی پر کھڑی ہے جونہی بیساکھی ہٹے گی حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا ملکی حالات کس جانب جارہے ہیں سب دیکھ رہے ہیں، سی پیک کے مستقبل کو تباہ کر دیا گیا ہے، حکومت کو ادراک ہے لوگ انہیں نااہل سمجھتے ہیں۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ حکومت نے پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، صفدراعوان کی گرفتاری پی ڈی ایم کے خلاف سازش تھی، ملکی تاریخ میں پہلی بار پولیس افسران کا جارحانہ رد عمل سامنیآیا، ہم جلسے کرتے رہیں گے تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم نہ مذاکرات کرتے ہیں اور نہ مذاکرات کے حق میں ہیں، الیکشن کمیشن 2018 کیانتخابات کو منسوخ کرے اور نئے انتخابات کا اعلان کرے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے لئے

بھارت کے ایجنڈے کا بیان دیا جاتا ہے، کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا عمران خان نے پیش کیا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرکے اسے شامل کرلیا، گلگت بلتستان میں بھی اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا، گلگت بلتستان جموں و کشمیر کا حصہ ہے ۔ ایک سوال پر مولانا کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جلسوں کو سیکورٹی دینا ریاست کا کام ہے اگر

ریاست تحفظ فراہم نہیں کر تی تو پھر ہمارے اپنے رضار کار سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے ۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ پشاور مدرسے میں ہونے والی دہشتگردی آرمی پبلک اسکول جیسی ہی ہے لیکن دینی مدرسے حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔گستاخانہ خاکوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرانس میں بھی پرتشدد واقعات ہوئے ہیں جبکہ فرانس

میں گستاخانہ خاکے پوری قوم کے لیے مضطرب کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ فرانس کے خلاف پوری امت مسلمہ احتجاج کر رہی ہے اور وقت ثابت کر رہا ہے کہ مسلمان شدت پسند نہیں بلکہ مغربی دنیا شدت پسند ہے۔سربراہ پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا کہ فرانس سے حکومتی معاہدے ختم کر دیے جائیں اور فرانس کو بتا دیا جائے کہ ہم معاشی بائیکاٹ کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…