منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

خان صاحب ہوشیار خبردار!‎ سینئر صحافی کامران خان نے بھی عمران خان کو وارننگ دیدی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر صحافی کامران خان نے وزیراعظم عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ، ہوشیار خبردار کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر اینکر پرسن کامران خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں یہ سب اپوزیشن جماعتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ہر عام پاکستانی پریشان ہے جنہوں نے آپ سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں ۔

تجزیہ کار نے وزیراعظم عمران خان سے روز بروز بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اپیل کر دی ہے ۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران کان کو آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے شو میں ہر حکومت میں بڑھتی مہنگائی سے متعلق آگاہ کرتا رہا ہوں ۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان سے دو ٹوک الفاظ میں کہنا چاہتوں کہ یوٹیلیٹی بلز اور اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے عام انسان پریشان ہے ، لوگ اس لیے بھی بلبلا رہے ہیں کہ انہوں نے آپ سے امیدیں باندھ لیں تھی کہ نئی حکومت ہماری زندگیوں میں پریشانیوں کو حل کر کے ہمارے لیے اسانی پیدا کر ے گی ۔ ان کا کہنا تھ اکہ آپ اپنے پروگرام میں بہترین ادادوشمار اور بہتری کی ہمیں خوشخبری سناتے ہیں ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں،سینئر صحافی کامران خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں آج بھی صدقے دل سے سمجھتا ہوں کہ آپ کی ناکامی پاکستان کی ناکامی ہوگی، ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی اصل وجہ آپ کی نااہلی، نا تجربہ کاری اور غلط اندازے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو اپنے پیغام میں مشورہ دیا ہے کہ یہی وقت ہے کہ آپ اپنے سیاسی حریفوں بھول کر اپنی توجہ مہنگائی کی طرف کریں اس وقت مہنگائی کا جن بوتل سے نکل کر پھیلتا جارہا ہے اس بند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگی آسانی کی طرف گامزن ہو سکے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…