جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

”ہاں جی اب بولو!“حامد میر نے صحافی کامران خان کو دن میں تارے دکھا دیئے، شرم سے پانی پانی کردیا‎‎

datetime 20  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سینئر اینکر پرسن کامران خان کو آئی سندھ کے اغواء کے دعویٰ پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا ، حامد میر نے کامران خان کواپنی خبر کی تردید کرنے سے روک دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر

کامران خان جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہاں جی! کچھ کہیں گے آپ یا نہیں؟ آپکے ناقابل تردید ذرائع نے کل مجھے بھی فون کیا تھا اور وہی کہا جو آپ نے بغیر تصدیق کئے لکھ مارا میں نے انکو جو جواب دیا تھا وہ ذرا انہی سے پوچھ لیجیئے اور آئندہ اپنے ان ذرائع کے کہنے پر میری خبر کی تردید مت کیجئے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حامد میر نے خبر دی تھی کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کو اغوا کر کے کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر دستخط کروائے گئے ہیں جس پر سینئر اینکر پرسن کامران خان نےردعمل دیتے ہوئےکہا تھا کہ ’’پی ڈی ایم اندرونی کھیل شروع مریم بی بی آئندہ سندھ آنے کی دعوت سوچ کر قبول فرمائیں ناقابل تردید زرائع بتاتے ہیں کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر ہنستے کھیلتے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے تمام مراحل میں اپنے سینئر اہلکاروں کے ساتھ شریک رہے اغوا وغیرہ کی کہانی مریم بی بی کی تسلی کے لئے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…