اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک / نیوز ایجنسی )16 اکتوبر کو گوجرانوالا میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے قبل پنجاب کے مختلف شہروں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔پکڑ دھکڑ کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے ٹرک اور کنٹینرز رائے ونڈ روڈ اور جاتی عمرہ جانے والے راستوں پر کھڑے کر دیے،
مختلف شہروں سے ن لیگ کے پوسٹر ، بینرز اور پینا فلیکس اتارنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔گوجرانوالا میں پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کے جلسے میں دو دن باقی ہیں لیکن پنجاب کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ زیادہ متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا، تو کہیں مقدمات درج ہوئے، کہیں پر تو پرنٹنگ پریس بھی سیل کر دی گئیں۔قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے گوجرانوالہ کے جلسے کے لیے لاہور پولیس کی جانب سے رائے ونڈ جاتی عمرا کو مکمل سیل کئے جانے کا امکان ، جاتی عمرا کے اطراف میں کنٹینر کھڑے کر دئیے گئے ۔تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس نے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کے احکامات بھی جاری کر دیئے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ریلی کسی صورت میں شہر سے کسی کو نکلنے کی اجازت نہ ہو گی اور اس حوالے سے پولیس نے بس اڈوں کو بھی بسیں فراہم نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں اور جو بسیں یا پبلک ٹرانسپورٹ دیں گئے انکے لائسنس بھی کینسل کر دیئے جائیں گئے۔ سرگرم کارکنوں کی گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔ذرائع کا کہناتھا کہ علاقہ کو مکمل سیل کرنے کے لئے جاتی امرا کے اطراف میں کنٹینر کھڑے کردیے ہیں۔کنٹینر زڈرائیور کا کہنا ہے کہ ہمیں یہاں پر لے کر آئے ہیں کہ مریم نواز کا جلسہ ہے اسے روکنے کے لئے کنٹینرز لگانے ہیں۔ہمیں زبردستی یہاں لائے ہیں۔گاڑیوں کی چابی تک لے گئے ہیں۔جبکہ مسلم لیگ (ن) نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پولیس نے (ن) لیگ کے رہنمائوں اور
کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردی ہیں ،ہر تھانہ کو زیادہ سے زیادہ کارکنا ن کی گرفتاری کا ہد ف دیا گیا ہے ۔اس حوالے سے شہر بھر میں لیگی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہمارے وکلا نے لاہور ہائیکورٹ میں کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف پٹیشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔انہوںنے کہاکہ گوجرانوالہ کا
جلسہ حکمرانوں کے اعصاب پر سوار ہے۔پولیس کریک ڈائون اور راستوں کی بندش آئین اور قانون کی شدید خلاف ورزی اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔انہوںنے کہاکہ کارکنان کو رہا نہ کیا گیا اور کریک ڈان جاری رہا تو جلسہ 16 اکتوبر سے پہلے ہی ہر شہر میں شروع ہو سکتا ہے۔حکومت اپنے اعلان کے مطابق جلسہ کے انعقاد میں رکاوٹیں نہ ڈالے۔جبکہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا
گوجرانوالہ میں 16 اکتوبر کو جو جلسہ منعقد ہو رہا ہے اس کو ناکام بنانے کیلئے تھانہ سوہدرہ، بیگو والہ،سمبڑیال اور اگوکی پولیس نے جی ٹی روڈ بلاک کرنے کیلئے لوڈنگ ٹرکوں اور کنٹینروں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔پولیس کی جانب سے مذکورہ پکڑ دھکڑ سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ موجودہ حکومت پی ڈی ایم گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسہ سے کافی خوفزدہ ہے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نیپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے (کل) جمعہ سولہ اکتوبر کو گوجرانوالہ جلسے سے متعلق اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ کسی بھی قیمت پر یہ جلسہ ہوگا، حکومت نے پرتشدد رویہ اپنایا تو نتائج کے ذمہ دار وزیراعظم عمران خان اور پنجاب حکومت ہوگی۔ پرامن عوام اور کارکنوں کو جلسہ کرنے کا
آئینی جمہوری اور قانونی حق دینے کا رویہ آمرانہ اور فسطائی ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔ اجلاس میں اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال، پارٹی کے پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خاں، انجینئر خرم دستیگر خان، مریم اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، عظمی بخاری سمیت دیگرمرکزی، صوبائی اور مقامی رہنمائوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سولہ اکتوبر کے جلسے کے لئے اب تک کے انتظامات اور حکمت عملی پر غور کیاگیا۔ اجلاس میں ایف آئی آرز کے اندراج اور جلسے کے انعقاد میں رکاوٹوں کی شدید مذمت کی گئی اور اسے سلیکٹڈ حکومت اور نالائق وکرپٹ وزیراعظم کی بوکھلاہٹ کا مظہر قرار دیاگیا۔ اجلاس نے کہاکہ ڈی سی اور دیگر حکام کا اپنے دفاتر سے فرار ہوجانا ضلعی مشینری کے سیاسی دباو میں ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔
اجلاس نے ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ اور وکلاء برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وکلاء برادری نے آئینی، جمہوری اور شہری آزادیوں کی حمایت کی ہے۔ اجلاس نے واضح کیا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم عمران نیازی کے پرچے، کنٹینر، دھمکیاں اور رکاوٹیں اب اسے بچا نہیں سکتیں۔ سلیکٹڈ حکومت کی روانگی اور عوامی حکومت کی تشکیل نوشتہ دیوار ہے۔ اجلاس نے جلسے کے حوالے سے
مختلف انتظامات کا جائزہ لیا اور متبادل حکمت عملی پر غور اور مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے مقامی انتظامیہ کی جانب سے راستے روکنے اور کارکنوں پکڑ دھکڑ سے بچنے کیلئے خفیہ پلان بھی تیار کرلیا ہے ۔اس حوالے سے سیکیورٹی اداروں نے 16 اکتوبر کو ہونے والے اپوزیشن کے مشترکہ اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسوں میں دہشت گردی کے
خطرے کا اظہار کردیا۔سیکیورٹی اداروں نے سیاسی جماعتوں کو لکھے گئے خط میں کہا کہ عوامی اجتماعات اور ریلیوں میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، سیاسی قائدین کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا کہ ماضی میں مال روڈ پر دہشت گردی کا واقعہ پیش آچکا ہے۔سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ نے مال روڈ پر جلسے جلوسوں پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ ایک جگہ اکٹھا ہونا کورونا کے پھیلائوکا سبب بن سکتا ہے۔