کراچی(آن لائن) ابھی ڈاکٹر عادل خان شہید علیہ الرحمہ کی قبر کی مٹی سوکھی ہی نہیں تھی ایک اور غمناک خبر آگئی معروف علمی شخصیت اور استاذ المحدثین حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملے، حضرت ایک عرصہ سے بیمار تھے پیر کے روزکراچی کے نجی اسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ حضرت ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی بڑی علمی
شخصیت تھے اور ہزاروں علماء کے استاد تھے، جے پور انڈیا میں 16اپریل 1929ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم مدرسۃ تعلیم الاسلام، جے پور راجستھان میں حاصل کی اس کے بعد درس نظامی کی تکمیل کی پھر دیوبند میں 6 سال استاد مولانا حیدر حسن خان کی شاگردی میں رہے،۔آپ کے والد مولانا عبدالرحیم عالم دین تھے، آپ 5بھائی ہیں جن میں آپ کو شامل کرکے تین بھائی عالم دین عربی، فارسی کے ماہر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بڑے بھائی عبدالرشید نعمانی نے ”لغت القرآن“ دوسرے بھائی عبدالعلیم ندوی لکھنو سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد راجپوتانہ یونی ورسٹی میں فارسی کی تعلیم دیتے تھے۔آپ کے والد مولانا عبدالرحیم شاعر تھے،خاطر تخلص رکھتے تھے۔ والد کا ”مطبع رحیمی“ کے نام سے مشہور پرنٹنگ پریس تھا۔ 1949ء میں ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی، مولانا احتشام الحق تھانوی علیہ رحمہ ریڈیو پاکستان سے قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے ان کے اسسٹنٹ کے طور پر 2 سال تک کام کیا۔ جب احتشام الحق صاحب کو سبکدوش کر دیا گیا توڈاکٹر صاحب نے بھی ملازمت کو خیرباد کہ دیا۔ 1967ء میں کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم۔اے کیا اور1970ء میں لائبریری سائنس میں ماسٹرز کیا۔1981ء میں آپ نے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد پاکستان کے بڑے دینی ادارے علوم الاسلامیہ علامیہ بنوری ٹاون اور دارالعلوم کراچی میں استاد رہے،
عرصہ دراز سے جامعۃ الرشید کراچی میں استاد الحدیث تھے، علمی حلقوں میں آپ کو ایک محقق اور محدث کے نام سے جانا جاتاتھا اسی طرح شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں آپ ایک دستاویز کی حثیت رکھتے، کراچی یونی ورسٹی سے لائبریری سائنس میں اوّلین پی۔ایچ۔ڈی کااعزاز بھی آپ ہی کو حاصل تھا۔ آپ کی پی ایچ ڈی کا مقالہ اسلامی
کتب خانے آپ کی وجہ شہرت بنا۔ 20 سال لائبریری میں عملی تجربہ حاصل کیا اور اردو فارسی، عربی زبانوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور ان زبانوں پر دسترس حاصل کی۔22سے زیادہ آپ کی تصانیف ہیں اور ہزاروں شاگردوں کو سواگوار چھوڑا۔یقینا یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کویہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔