اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی ریکارڈ یافتہ سٹنٹ مین سلطان محمد خان نے رواں برس جولائی کے مہینے میں چترال کے ایک گائوں میں کمسن لڑکی کو زائد عمر کی دکھا کر شادی کر لی تھی، جس کا علم ہونے پر چترال کی ایک فلاحی تنظیم نے تفتیش کی تو معلوم ہوا
کہ لڑکی کی عمر جعلی کاغذات تیار کرکے زیادہ دکھائی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فلاحی تنظیم اور چترال کی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی کے والد نے لڑکی کے سکول سرٹیفکیٹ اور ویکسینیشن کے سرٹیفکیٹ چھپا کر یونین کونسل سے نیا پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کیا جس پر زائد عمر لکھوائی گئی اور اس کا جعلی شناختی کارڈ بنوایا گیا، لڑکی کے اسی جعلی شناختی کارڈ پر سلطان محمد خان نے کم عمر لڑکی سے شادی کرلی۔ لڑکی کے اسکول اور ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ سے معلوم ہوا کہ لڑکی کی عمر 12 سال بنتی ہے، جس کا سلطان محمد خان المعروف گولڈن خان کا نکاح کروانے والے نکاح رجسٹرار کو علم ہوا تو اس نے بھی دونوں کا نکاح نامہ منسوخ کر دیا۔فلاحی تنظیم اور چترال کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نادرا کو بھی درخواست دی گئی ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹ اور کاغذات تیار کرکے جعلسازی کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے پر کم عمر لڑکی کے والد اور اس سے
شادی کرنے والے سلطان محمد کے خلاف نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت جعلی سازی کے ذریعے دستاویزات حاصل کرنے پر کاروائی کی جائے اور دونوں ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔جبکہ دوسری جانب لڑکی کے والد اور سلطان محمد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہے اور لڑکی کی عمر 12 سال کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔