بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

گوجرانوالہ ٹرین حادثہ ، ڈویژنل انجینئر نے گڑبڑ کا اعتراف کر لیا

datetime 4  جولائی  2015 |

گوجرانوالہ (نیوز ڈیسک) گوجرانوالہ ٹرین حادثے میں شہدا کی تعداد انیس ہوگئی ، نہر سے دو بوگیاں بھی نکال لی گئیں ، پاک فوج اور ریلوے افسروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کے پہلے روز اہم شواہد اکٹھے کرلئے ، تخریب کاری کا کوئی ثبوت نہیں ملا تاہم ٹیم کی آمد سے قبل شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی ۔ پل سے ڈھائی سو فٹ پہلے انجن پٹری سے اترنے کے شواہد بھی مل گئے ۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کی جگہ کا معائنہ کیا ، اس دوران اہم شواہد بھی اکٹھے کئے گئے ، ذرائع کے مطابق ٹیم کی آمد سے قبل متاثرہ پٹری درست کرنے کی کوشش بھی کی گئی جس سے حادثے کے شواہد مٹ سکتے تھے ۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقات کے مطابق بھی حادثہ پل ٹوٹنے سے نہیں بلکہ ٹریک میں خرابی کے باعث پیش آیا ۔ ٹریک پر انجن اور بوگیوں کے ڈھائی سو فٹ تک رگڑنے کے نشانات پائے گئے ۔ ڈویژنل انجینئر ریلوے فرمان غنی نے جے آئی ٹی کو بیان میں ٹریک کی گڑ بڑ کا اعتراف بھی کرلیا ہے ، پل سے ڈھائی سو فٹ پہلے انجن پٹری سے اترنے کے شواہد بھی مل گئے ۔
مزیدپڑھیے:شامی مسجد میں دھماکہ، النصرہ فرنٹ کے 25 باغی ہلاک

جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم آج ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں پل نمبر دو سو اٹھہتر کے انسپکشن ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے ساتھ متعلقہ حکام کے بیانات بھی قلمبند کرے گی ۔ اتوار کی شام تک ابتدائی رپورٹ وفاقی حکومت کے سپرد کئے جانے کا بھی امکان ہے ۔ ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید انور کا کہنا تھا کہ حادثے کی  شکار بوگیوں کو ہٹانے کے لئے ٹریک مرمت کرنے کی کوشش کی گئی ہوگی ، تاہم مشترکہ ٹیم کا موقف ہے کہ جلد بازی میں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ متاثرہ پٹری پر لگنے والی رگڑوں کی مشترکہ ریڈنگ لے لی گئی ہے ۔ انجن کو پانی سے نکالنے کے بعد مزید حقائق بھی سامنے آئیں گے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…