بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ہاؤسنگ اور تعمیرات کی فنانسنگ سٹیٹ بینک نے بینکوں کیلئے ترغیب اور سزا کا طریقہ کار متعارف کرا دیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)بینک دولت پاکستان نے مارگیج قرضے اور ڈویلپرز اور بلڈرز کو مالکاری کی فراہمی کی خاطر بینکوں کے لیے لازمی ہدف مقرر کرنے کے قبل ازیں کیے گئے اقدام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ان اہداف کو پورا کرنے کی ترغیب دینے کا طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔

اس طریقہ کار میں ہدف پورا کرنے میں ناکامی پر بینکوں کے لیے سزائیں بھی شامل ہیں۔اس طریقہ کار کے مطابق ،جو 31 دسمبر 2020 کو شروع ہوگا ،بینکوں کو یہ ترغیب حاصل ہوگی کہ اگر وہ کسی سہ ماہی میں ہاؤسنگ اور عمارات کی تعمیرات کے لیے فنانسنگ کا مقررہ ہدف حاصل کرلیتے ہیں یا اس حد سے تجاوز کرجاتے ہیں تو اگلی سہ ماہی میں اسٹیٹ بینک میں رکھا جانے والا مطلوبہ نقد ِمحفوظ (Cash Reserve Requirement, CRR) کم کردیا جائے گا۔ اگلی سہ ماہی کے لیے مطلوبہ نقد ِمحفوظ کی رقم میں اتنی کمی کی جائے گی جتنا 30 جون 2020 سے متعلقہ سہ ماہی کے آخر تک ہاسنگ اور تعمیرات کی مالکاری میں اضافہ ہوگا۔ تاہم یہ ترغیب مجموعی طلبی اور زمانی واجبات کے ایک فیصد کی بالائی حد سے مشروط ہوگی جس کے مطابق مطلوبہ نقد ِمحفوظ کا حساب لگایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بینک یومیہ کم از کم مطلوبہ نقد ِمحفوظ، جو اس وقت 3 فیصد ہے، برقرار رکھنے پر قائم رہیں گے۔

اس کے برعکس اگر بینک ہدف پورا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں یہ سزا دی جائے گی کہ جتنی رقم ہدف سے کم ہوگی اتنا ہی اضافی مطلوبہ نقد ِمحفوظ رکھنا ہوگا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مطلوبہ نقدِ محفوظ کی رقم پر بینکوں کو کوئی منافع نہیں ملتا۔ اس لیے مطلوبہ نقد ِمحفوظ کی

رقم میں کمی بینکوں کے لیے ترغیب اور اس رقم میں اضافہ سزا کا اثر رکھتا ہے۔ ترغیبی طریقہ کار کی مزید تفصیلات بینکوں کو جاری کردہ سرکلر میں فراہم کی گئی ہیں جو اس لنک پر دستیاب ہے:https://www.sbp.org.pk/dmmd/2020/CL3.htmاسٹیٹ بینک ملک میں ہائوسنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں

کے فروغ کے لیے فنانس کو تقویت دینے کی خاطر بینکوں کے ساتھ فعال طور پر کام کررہا ہے۔ مکانات کی تعمیر اور شعبہ تعمیرات کی نمو معیشت کے لیے بے حد اہم ہے کیونکہ اس کے متعدد منسلکہ صنعتوں سے روابط ہیں اور اس میں روزگار تخلیق کرنے کی استعداد ہے نیز بیشتر

ہمسر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں نجی شعبے کے قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب کم ہے۔ اس شعبے میں فنانسنگ بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے لازمی اہداف کو پورا کرنا ضروری قرار دیا ہے جس کے مطابق 31 دسمبر 2021 تک ان کی ہائوسنگ اور تعمیرات

کی مالکاری ملکی نجی شعبے کے قرضے کے 5 فیصد کے مساوی ہونی چاہیے۔ چنانچہ 31 دسمبر 2020 سے 31 دسمبر 2021 تک کے سہ ماہی اہداف بینکوں کے ساتھ طے ہوگئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مطلوبہ نقد محفوظ کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ذریعے اس ترغیبی طریقہ کار کے نتیجے میں بینک ہاؤسنگ اور تعمیرات کی فنانس پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…