پشاور (آن لائن) مہنگائی ، بیرو گاری او ر7ماہ کی فیسوں کی وصولی کے باعث پشاور میں 4ہزار سے زائدوالدین نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں سے نکال دیا ہے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کردیا گیا ہے ۔ کرونا وائرس کے باعث متوسط اور تنخواہ دار اور سفید پوش طبقہ بری طور پر متاثر ہو کر رہ گیا ہے مہنگائی کی لہر نے گھریلو بجٹ کو درہم برہم کردیا ہے۔
مہنگائی ، بیروز گاری اور 7مہینوں کے اکھٹی فیس کی وصولی پر سفید پوش والدین کو شدید ترین مالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہاہے پرائیویٹ سکول سیکٹر کے ذرائع کے مطابق کرونا وائرس کے بعد اب تک چار ہزار سے زائد والدین نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں سے نکال دیاہے اور انہیں سرکاری سکولوں میں داخل کردیا ہے پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کے خارج ہونے میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب پشاورہائیکورٹ نے حکم جاری کیاہے کہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق والدین نجی سکولوں کو فیس ادا کریں اور اگلی پیشی 14 اکتوبر تک سکول بچوں سے فیس وصولی کریں لیکن بچوں کو ہراساں نہ کیاجائے۔بدھ کے روز عدالت عالیہ پشاورمیں بچوں کے والدین کی جانب سے کوروناوبا میں فیس وصولی کیخلاف دائردرخواست کی سماعت ہوئی اس موقع پر PENکے عہدیدارجاویدخان،نفیس اللہ ،سرورشاہ،نورشادبھی عدالت میں موجود تھے۔دائردرخواست میں والدین نے موقف اپنایاتھاکہ فیسوں کے نام پر بچوں کو ہراساں کیا جارہا ہے حکومت نے چھ ہزارسے کم فیسوں میں صرف دس فیصد ریلیف دی ہے لاک ڈاؤن کے چھٹیوں کی فیس معاف کردئیے جائیں۔چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ پرمشتمل ڈویڑن بنچ نے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کوئی بھی سکول بچوں کو ہراساں نہ کرے بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کردی۔