اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف حکومت کا پہلا بڑا کرپشن سکینڈل پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پہنچ گیا ہے یہ سکینڈل وزارت مواصلات اور حبیب بینک لمیٹڈ کے مابین ایک معاہدے کی شکل میں سامنے آیا ہے جس سے قومی خزانہ کو 118 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اس سکینڈل کے بڑے مرکزی کرداروں میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید ، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک ،
سیکرٹری مواصلات ظفر سعید اور حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر ہیں ۔ پی اے سی کااجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں وزارت مواصلات کے ذیلی ادارہ پاکستان پوسٹ اور حبیب بینک کے مابین 118 ارب روپے کے معاہدے پر تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیاگیا سیکرٹری مواصلات ظفر سعید نے اجلاس میں اس بات کا اقرار کیا کہ معاہدے میں ملکی قوانین اور حکومتی قواعد کی شدید خلاف ورزی کی گئی ہے جبکہ وزارت قانون اور انصاف کی طرف سے توثیق کئے گئے معاہدے کی متفقہ شقوں کو بھی ٹمپرڈ کیا گیا ہے اور فراڈ اعلیٰ سطح پر ہوا ہے ۔ سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ معاہدہ غیر شفاف تھا جو سابقہ سیکرٹری مواصلات جواد رفیق ملک کے دور میں مکمل کیاگیا تھا جبکہ معاہدے پر دستخط ان کے بعد کئے گئے ہیں ۔ سیکرٹری مواصلات نے کہا کہ فیفٹ کی وجہ سے معاہدے کو جلدی مکمل کرنا پڑا ۔ انہوں نے قرار کیا کہ معاہدے پیرا رولز کی خلاف ورزی ہے جبکہ معاہدے سے قبل نیب سے بھی اس کی توثیق نہیں کرائی گئی اور وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لئے ب غیر معاہدے کو حتمی شکل دی گئی ۔ سابق سیکرٹری ایاز صادق نے کہا کہ اس معاہدے پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ اجلاس میں پیش کی ۔ سردار ایاز صادق نے معاہدے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے رپورٹ پیش کی کہ موجودہ حکومت خفیہ طریقہ سے قوم کے 118 ارب روپے کا فراڈ کرنا چاہتی ہے جس کا
مرکزی کردار چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک ہیں جو پہلے سیکرٹری مواصلات تھے ۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے تمام ممبران اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سردار ایاز صادق کی تحقیقاتی رپورٹ کو سراہا ۔ رپورٹ میں ثابت کیاگیا ہے کہ معاہدے کی وزارت قانون سے توثیق کرائی گئی تھی لیکن بینک سے جو معاہدہ ہوا ہے اس میں دستاویزات تبدیل کرکے فراڈ کیاگیا ہے ۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ حکام نے اس معاہدے پر تحقیقاتی رپورٹ دی جس میں معاہدے کو غیر قانونی قرار دیاگیا ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ فیفٹ کا مقصد سیاستدانوں کو پکڑنا ہے کیونکہ اس قانون میں نیب کو مزید اختیارات دیئے گئے ہیں ۔ نور عالم نے کہا کہ سینٹ کمیٹی کو ججوں ، جرنیلوں سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کی تفصیلات دیں جن کیخلاف
نیب تحقیقات کررہا ہے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا کہ مواصلات وزارت اور حبیب بینک کے مابین 118 ارب روپے کے معاہدے کو ہم نے پہلے ہی غیر شفاف اور قومی مفادات کیخلاف قرار دیا ہے پی اے سی نے سردار ایاز صادق کی تحقیقاتی رپورٹ اے پی سی کو دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں معاہدے پر مزید تحقیقات مکمل کی جائیں اور رپورٹ ایک ماہ میں کمیٹی کو ارسال کی جائے
۔ ممبران نے مطالبہ کیا کہ 118ارب کرپشن سکینڈل میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو طلب کیاجائے تاہم رانا تنویر نے کہا کہ حتمی رپورٹ کے آنے تک انہیں طلب نہیں کیا جانا چاہیے ۔ پی اے سی نے گرینڈ حیات ہوٹل کرپشن سکینڈل پر بھی جاری تحقیقات اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا ہے ہوٹل کے ڈویلپر عبدالحفیظ شیخ خود کمیٹی میں پیش ہوئے اور کہا کہ عدالت نے
انہیں مزید 17 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے پی اے سی نے چیئرمین سی ڈی اے اور عبدالحفیظ شیخ کو حکم دیا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں 17 ارپ روپے کی ادائیگی کا شیڈول تیار کیاجائے اور رپورٹ پندرہ دن میں کمیٹی کو دی جائے۔چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے آن لائن کو اپنا موقف دتے ہوئے کہا کہ یہ خبر غلط ہے جس کی تصدیق پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر سے بھی کی جاسکتی ہے ۔