ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پاکستان بدل چکا،کوئی قانون سے بالاتر نہیں،شہبازشریف عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے اس لئے گرفتار ہوئے،شہباز شریف کے عمران خان سے موازنہ پر وزیر اطلاعات نے حیرت انگیز بات کر دی

datetime 28  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان بدل چکا،کوئی قانون سے بالاتر نہیں،شہباز شریف عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے اس لئے گرفتار ہوئے،شہبازشریف کا عمران خان سے موازنہ گالی دینے کے مترادف ہے،عمران خان کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دیا۔ جبکہ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز

شریف نے 16افراد کے منظم گینگ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی،4زیر حراست افراد اعتراف جرم بھی کرچکے،منی لانڈرنگ کی رقم اپنی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بعد ذاتی اکاؤنٹ میں بھی منتقل کرنے کا ثبوت موجود ہے۔پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ شہبازشریف کی گرفتاری کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہ عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔ایمانداری سے کاروبار اور پیسہ بنانے میں کوئی قدغن نہیں ہے،شہبازشریف غیر قانونی اثاثوں کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔نوازشریف بھی اپنے غیر قانونی اثاثوں کے بارے میں عدالت میں ثبوت پیش نہیں کرسکے تھے۔اگر شریف برادران اقتدار میں ہوں تو ان کو سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے،یہ لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں،وزیراعظم عمران خان نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا،انہوں نے اپنی40سال کے خون پسینے کی کمائی کے ایک ایک پیسے کا حساب عدالت کو دیا۔سپریم کورٹ وزیراعظم عمران خان کو صادق اور امین قرار دے چکے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کا ماضی میں عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔اب پاکستان بدل چکا ہے کوئی بھی شہری قانون سے بالاتر نہیں ہے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔نوازشریف خود ملک سے باہر ہیں ان کی اولاد اور اثاثے بھی باہر ہیں وہ کیسے ملکی مفاد کی بات کرسکتے ہیں۔وزیراطلاعات ونشریات شبلی فراز

کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر داخلہ شہزاداکبر نے کہا کہ مریم نواز نے پریس کانفرنس میں اپنے چچا کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی اور اپنے چچا کی سیاست کا باب بند کردیا ہے۔ہونہار بھتیجی نے اپنے چچا پر ایک اور کاری وار کیا ہے۔مریم نواز کی پریس کانفرنس فرمائشی پروگرام تھا اور قانونی جنگ ہارنے کے بعد بوکھلاہٹ کی عکاسی تھی۔مریم نواز نے اعتراف

کیا کہ شہبازشریف مفاہمت کی سیاست کرتے ہیں جبکہ میں جارحانہ سیاست کرتی ہوں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ احسن اقبال نے شہبازشریف کی گرفتاری کو گلگت بلتستان انتخابات سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔گزشتہ6ماہ میں شہبازشریف کتنی بار گلگت بلتستان گئے یا جلسے کئے ہیں۔نیب نے جون میں شہبازشریف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے،جون سے آج تک لاہور ہائیکورٹ میں

نیب اور شہبازشریف کے درمیان قانونی جنگل چل رہی تھی۔لاہور ہائیکورٹ نے نیب مؤقف کو درست جان کر شہبازشریف کی ضمانت مسترد کردی۔شہزاد اکبر نے استفسار کیا کہ کیا مسلم لیگ(ن) آزاد عدالتوں سے اپنے من پسند فیصلے چاہتی ہے،نیب کا کیس شہبازشریف اور ان کے گینگ کے خلاف تھا۔نیب نے شہبازشریف کے خلاف منظم منی لانڈرنگ گینگ کا لفظ استعمال کیا۔ شہباز

شریف منی لانڈرنگ کیس میں 16افراد ملوث ہیں۔انہوں نے ملازمین کے نام پر بے نامی کمپنیاں بنائیں۔چار افراد نے شہبازشریف کی منی لانڈرنگ میں معاونت کا گناہ قبول کرلیا ہے۔شہبازشریف اور ان کے گینگ نے ”ٹی ٹیر“ کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا۔منی لانڈرنگ کی رقم اپنی بیگم کے اکاؤنٹ میں ٹرانسنفر کی۔ایک بیوی کے اکاؤنٹ سے پیسے لے کر دوسری بیوی کو بنگلہ خرید کردیا۔

شہبازشریف اور انکی اولاد کے اکاؤنٹس میں پڑا ہوا پیسہ قوم سے لوٹا گیا ہے۔جن ملازمین کے نام پر بے نامی کمپنیاں بنائی گئیں وہ خود ان کمپنیوں کی ملکیت سے انکاری ہیں۔مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ شہبازشریف کو آج دو قسم کی چارج شیٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شہبازشریف

کی قبل از گرفتاری کی ضمانت مسترد کی ہے جبکہ دوسری چارج شیٹ مریم نوازشریف نے اپنے چچا کے خلاف جاری کی ہے۔جس میں انہوں نے اپنے چچا شہبازشریف کی مفاہمتی سیاست کی پالیسی کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ان کی پریس کانفرنس مذمتی کم اور شہبازشریف کے خلاف وکٹری سپیچ زیادہ لگ رہی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…