منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

نابینافرانسیسی کوہ پیماپہاڑعبورکرگئے

datetime 3  جولائی  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)پانچ مکمل یا جزوی نابینا افراد نے مشرقی فرانس کے پہاڑی سلسلے کو عبور کر لیا۔ ان کی مدد اس جی پی ایس نظام نے کی، جس کے خالق یہ امید کرتے ہیں کہ اس سے دنیا بھر میں بصارت کے مسائل کے شکار لاکھوں افراد کی مدد کی جا سکے گی۔گزشتہ ہفتے فرانسیسی پہاڑی سلسلہ عبور کرنے والے ان کوپیماں کے ہاتھوں میں سہارے کے لیے سفید چھڑیاں اور سمارٹ فون ایپ تھے۔ جب کہ اس کے علاوہ ان افراد کو کسی دیکھنے والے رہنما کی سہولت میسر نہ تھے۔ ان افراد نے چھ روز تک جنگلات، کھیتوں اور ووسگس (Cosges) کے پہاڑی سلسلے میں 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور جرمن سرحد پر پہنچ گئے۔ان کے پیٹ سے چپکا ایک ناوی رینڈو نامی آلہ انہیں راہ کے نشیب و فراز، کھائیوں، گھاٹیوں اور راہ کی دیگر مشکلات سے باخبر رکھے ہوئے تھے۔ ناوی رینڈو نامی یہ چھوٹا سا آلہ لفظ نیوی گیشن اور کوہ پیمائی کے لیے استعمال ہونے والے فرانسیسی لفظ رینڈون (Rendonne) سے اخذ کیا گیا ہے۔اسے شمال مشرقی فرانسی شہر اسٹراس برگ کی جامعہ سے وابستہ محققین نے تخلیق کیا ہے۔ اس آلے کی تیاری کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے ضرورت مند افراد کی مدد ہے۔یہ آلہ کام کچھ یوں کرتا ہے کہ کوئی نابینا شخص چل رہا ہو، تو اس کی معاونت کے لیے ایک برقی آواز ابھرے گی، پوائنٹ پندرہ، گیارہ بجے، ایک سو چورانوے میٹر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو سو میٹر سے کم فاصلے پر گیارہ بجے کے گھڑیال کی سمت میں مڑ جائیں۔اس سفر سے قبل فرانسیسی ہائکنگ فیڈریشن نے رضاکاروں کو اس علاقے میں بھیجا تھا، جنہوں نے اس پورے سفر کی تمام تر چھوٹی بڑی اونچائی اور نیچائی کی معلومات جمع کی تھی۔یہ سفر کرنے والے پیدائشی نابینا عان کلاد ہائم نے کہا، یہ چیز اب بھی کچھ مشکل ہے، کیوں کہ اس کی جانب سے بچائی جانے والی سمت پر درست انداز سے عمل پیرا ہونا آسان نہیں۔ اس 63 سالہ سابق اسکول ٹیچر کا مزید کہنا تھا، اس لیے آپ کے پوری توجہ دینا پڑتی ہے۔تاہم ان کا مسکراتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں اس سفر میں بے انتہا لطف آیا۔ 25اگرچہ میں دیکھ نہیں سکتا، تاہم اس دور افتادہ علاقے کی خوشبو، آس پاس کی چیزوں کو چھونا، بارش اور پرندوں کی چہچہاہٹ سنے اور یہ سب محسوس کرنے کا بھرپور موقع ملا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…